تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 82

آگیا اس کی آواز اتفاقاً اچھی نہ تھی۔چند دنوں کے بعد باپ نے پوچھا بیٹی اب اسلام کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ وہ کہنے لگی اب مجھے اسلا م کی طرف کوئی رغبت نہیں رہی اور میری سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ مسلمانوں میں اچھے آدمی بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔جیسے ہمارے سکھوں میں اچھے بھی ہو تے ہیں اور برے بھی پس امامت کے ذریعہ جب ہم زیادہ اتقٰی انسان کی سوز کی آواز سنیں گے توہمارے اندر زیادہ سوز پیدا ہو گا اور اس طرح دعا کی طرف زیادہ متوجہ ہو جائیں گے۔(۸)پھر امامت کے لئے اسلام نے کسی خاندان یا کسی خاص قوم کی خصوصیت نہیں رکھی۔عیسائیوں میں مقررہ ORDAINEDپادری کے سوا کوئی دوسرا آدمی نماز نہیں پڑھا سکتا ہندوؤں میں خاص نسل کے پنڈت کے سوا کوئی دوسرا آدمی نماز نہیں پڑھا سکتا۔سکھوں میں گرنتھی کے سوا کوئی دوسرا آدمی گرنتھ صاحب کا پاٹ نہیں کرا سکتا۔لیکن اسلام نے کسی خاص گروہ میں سے ہو نے کے اصول کو توڑدیا ہے۔اس کے نزدیک ہر انسان جو دیندار ہو امام بن سکتا ہے اس کے لئے کسی خاص نظام، کسی خاص نسل یا کسی خاص خاندان میں سے ہونا ضروری نہیں۔یوروپین لوگ جب ادھر آتے ہیں اور وہ مسلمانوں کی اس خصوصیت کو دیکھتے ہیں تو وہ حیران ہو تے ہیں۔ان میں سے جب تک کسی کے پاس سند نہ ہو نماز نہیں پڑھا سکتا۔لیکن مسلمانوں میں خدا تعالیٰ نے ہر ایک کو امامت کا حقدار بنا کر اپنے دربارمیں مساوات کو قائم کر دیا ہے اور سند صرف تقویٰ کی رکھی ہے۔اسلامی نماز میں مساوات پھر اسلامی مساجد میں نماز ادا کرتے وقت کسی قومی یا نسلی امتیاز کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔انگریزوں کے گرجوں میں جگہیں بنی ہوئی ہوتی ہیں اور ان کے اوپر لکھا ہوا ہو تا ہے کہ یہ جگہ فلاں خاندان کے لئے مخصوص ہے۔یہ جگہ فلاں لاٹ صاحب کے لئے ہے(کیونکہ وہ مثلاً پچیس پاؤنڈ سالانہ چندہ گرجا کو دیتے ہیں ) فلاں جگہ فلاں کی ہے اور فلاں جگہ فلاں کی ہے گویا خدا تعالیٰ کی عبادت گاہ بھی بکتی ہے۔یہی حال دوسری قوموں کا ہے۔بڑے آدمیوں کے لئے اچھی جگہ رکھی جاتی ہے۔پاٹ ہو رہا ہے، پنڈت بول رہا ہے، گرنتھی گرنتھ پڑھ رہا ہے تو ایک بڑے آدمی کو دیکھ کر وہ فوراً بول اٹھتا ہے۔سردار صاحب آگئے۔سردار جی یہاں تشریف لایئے۔لیکن مسلمانوں میں اگر کوئی ایسا کرے تو سب اس کے پیچھے پڑ جائیں گے اور کہیں گے جاؤ تمہاری نماز باطل ہو گئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب مسلمانوں میں دولت بڑھ گئی اور غرور آنا شروع ہوا تو بادشاہ ایسا کیا کرتے تھے کہ وہ جب حج کے لئے جاتے تو پہلے ان کا نوکر آکر مسجد میں ان کا مصلّٰی بچھا دیتا ایک دفعہ بادشاہ کا مصلّٰی بچھاہوا تھا کہ ایک غریب آیا اور اس پر کھڑا ہو گیا۔سپاہی نے کہا یہ بادشاہ کا مصلّٰی ہے اس پر تم کیوں کھڑے ہوئے