تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 83

ہو۔اس نے جواب دیا یہ بادشاہ کا دربار نہیں۔اس دربار میں ہم سب برابر ہیں۔جب سپاہی نے زیادہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو سارے نمازی کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا یہ بڑے بادشاہ یعنی خدا تعالیٰ کا دربار ہے اس میں دنیاوی بادشاہ کی بھی وہی حیثیت ہے جو ایک نوکر کی ہے کمزور بھی یہاں ایسا ہی ہے جیسا طاقتور ہے۔مسجد میں ایک ہنگامہ برپاہو گیا اور آخر بادشاہ کو بھی جھکنا پڑا۔چنانچہ اب وہاں باہر ایک جگہ بنائی ہوئی ہے جہاں بادشاہ نماز پڑھ لیتے ہیں مسجد میں نہیں گھستے کیونکہ اگر وہ مسجد میں جائیں تو انہیں وہاں دوسروں کے برابر کھڑا ہو نا پڑتا ہے۔آج تک کئی اسلامی حکومتیں گذری ہیں مگر وہ کسی پر پابندی نہیں لگا سکیں۔کوئی دھوبی ہو، نائی ہو، کمہار ہو، اسے بادشاہ کے پاس کھڑا ہو نے سے کوئی شخص روک نہیں سکتا بلکہ بادشاہ تک نہیں روک سکتا پس جہاں اسلام نے امامت کے متعلق کہہ دیا کہ سب مسلمان اس حق میں مسا وی ہیں وہاں یہ قانون مقرر کر کے کہ مسجد میں ہر ایک برابر کا حقدار ہے انسانوںمیں مساوات قائم کر دی۔اسلامی نماز کے ادا کرنے کے لئے کسی خاص جگہ کی قید نہیں (۹) پھر اسلام نے ایک اور حد بندی بھی توڑ دی عیسائی نے اگر نماز پڑھنی ہو تو وہ گرجے میں جائے گا، ہندو نے اگر نماز پڑھنی ہو تو وہ مندر میں جائےگا، سکھ نے اگر نماز پڑھنی ہو تو وہ گوردوارہ میں جائے گا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا۔(بخاری کتاب الصلٰوۃ باب قول النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جعلت لی الارض) میرے لئے ساری زمین مسجد بنا دی گئی ہے عیسائیوں میں صرف گرجوں میں عبادت ہو تی ہے۔ہندوؤں میں صرف مندروں میں عبادت ہوتی ہےمگر ساری زمین کے چپہ چپہ پر صرف مسلمان نے سجدہ کیا ہے۔ہم جب پہاڑوں پر جاتے ہیں تو جان بوجھ کر مختلف جگہوں پر نماز پڑھتے ہیں تاکہ کوئی جگہ ایسی نہ رہ جائے جہاں خدا تعالیٰ کی عبادت نہ کی گئی ہو۔دیکھو کتنی وسعت ہے جو اسلام میں پائی جاتی ہے جہاں خدا تعالیٰ نے امامت میں ہر ایک کو حقدار بنا کر اپنے دربار میں مساوات قائم کر دی۔جہاں مسجدوں میں ہر ایک کو برابر کا حقدار بنا کر انسانوں میں مساوات قائم کر دی وہاں جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا کہہ کر زمین کے چپہ چپہ میں مساوات قائم کردی۔(۱۰) پھر ایک طرف جہاں جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا کہہ کر اس نے ساری زمین کو مسجد میں تبدیل کر دیا وہاں فرائض کے ساتھ نوافل ملا کر اس نےہر گھر کو مسجد بنا دیا۔کیونکہ نوافل کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند فرمایا ہے کہ وہ گھر میں پڑھے جائیں۔جیسے فرمایا لَا تَـجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ مَقَابِرَ(مسلم کتاب الصلٰوۃ المسافرین باب استحباب صلٰوۃ الـنـافلۃ)۔اپنے گھروں کو مقبرے نہ بناؤ۔یعنی جیسے مقابر پر نماز پڑھنی جائز نہیں