تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 81
دعائیں دو قسم کی ہو تی ہیں (۱) مقررہ اور (۲) مرخّصہ۔مقررہ میں اعلیٰ درجہ کی دعائیں شامل ہیں جن کو ممکن تھا ہم دعا کرتے وقت چھوڑ دیتے اور مرخّصہ وہ ہیں جو ہم اپنی ضرورتوں کے لئے اپنی زبان میں کر سکتے ہیں۔ممکن تھا کہ ہم بعض ضرور ی اور اہم دعاؤں کو چھوڑ دیتے یا وہ ہمارے ذہن میں نہ آتیں سو وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے خود مقرر کر دیں مثلاً اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ سے الضَّآلِّيْنَ تک جو دعا ہے وہ ہمارے ذہن میں نہ آسکتی تھی یا سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ۔رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ وغیرہ کلمات ہیں۔یہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتے تھے ان کو تو خدا اور اس کے رسول نے مقرر کر دیا اور باقی اگر ہمارا مالی نقصان ہو جائے، ملازمت میں خرابی واقع ہوجائے، تجارت میں ترقی نہ ہو یا اور کوئی ضرورت درپیش ہو تو اس کے لئے اپنی زبان میں اور اپنی ضروریات کے مطابق دعائیں مانگنےکی اجازت دے دی۔اس رنگ کی انفرادی یا قومی طور پر دعائیں دوسری قوموں کی عبادتوں میں نہیں پائی جاتیں۔اسلامی نماز میں قرأت بالجہر اور قرأت بالسِّر (۷) قرأت بالجہر اور قرأت بالسِّر بھی اسلامی نماز کی ایک خصوصیت ہے۔عیسائیوں کو دیکھو تو پادری وعظ کر دے گا۔بائبل کی ایک آیت کو لے لے گا اور اسی پر تقریر کر دے گا اور یہ ان کا گرجا ہو جائےگا۔اس کے بعد وہ اپنی مقررہ دعائیں کر لیں گے۔اے خدا تو مجھے کل کی روٹی آج دے دے یا اے خدا جس طرح تیری بادشاہت آسمان پر ہے ویسی ہی زمین پر بھی قائم ہو(متی باب نمبر۶ آیت ۱۰،۱۱)۔اس قسم کی چند مقررہ دعائیں ہیں جو وہ کرتے ہیں۔مگر اسلام نے نمازو ںکو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے (۱)بالجہر اور (۲) بالسِّر۔اسی طرح بعض حصے ایسے ہیں جن میں امام قرأت بالجہر سے کام لیتا ہے اور ہم اس کے پیچھے وقفوں میں بالسِّر بھی پڑھتے ہیں۔مثلاً سورۂ فاتحہ اور بعض حصے ایسے ہیں جن میں صرف امام پڑھتا ہے ہم اُسےدہراتے نہیں۔خاموشی سے سنتے ہیں جیسے تلاوت قرآن۔پھر امام کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے جو زیادہ متقی ہو وہ امام بنے۔اب یہ لازمی بات ہے کہ جب زیادہ متقی انسان نماز پڑھائے گا تو اس کے اندر جو سوز اور درد ہو گا اس کا دوسروں پر بھی اثر پڑے گا اور ان میں بھی تبدیلی پیدا ہو تی چلی جائے گی۔حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ راولپنڈی میں ایک مؤذن تھا اس کی آواز بہت سریلی تھے۔مسجد کے پاس ہی ایک سکھ رہتا تھا ایک دن اس سکھ کی لڑکی کہنے لگی باپو جی میں تو مسلمان ہو جاؤں گی۔باپ نے پوچھا تم نے اسلام میں کیا دیکھا ہے؟ وہ کہنے لگی اس مذہب میں بہت سچائی ہے۔مؤذن اذان دیتا ہے تو اس میں ایسادرد ہو تا ہے جو خدا تعالیٰ کی محبت پر دلالت کرتا ہے وہ سکھ رئیس آدمی تھا اس نے مؤذن کو کسی اور کا م پر لگا دیا۔مثلاً ً پہلے اگر وہ پندرہ روپے لیتا تھا تو اب اس نے کہا اچھاتم پچیس روپے لے لو اور میرے فلاں کام پر چلےجاؤ۔چنانچہ وہ چلا گیا اور کوئی دوسر امؤذن