تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 80

کے ساتھ جماعت میں شامل ہو۔اسی طرح وہ ادھر اُدھر جھانک بھی نہیں سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو نمازی ادھر ادھر دیکھے گاخدا تعالیٰ اس کا سر گدھے کا سر بنا دے گا۔اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے انسان کی حماقت کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ ایسا شخص اوّل درجہ کا احمق ہو تا ہے۔وہ نماز میں ادھر اُدھر کیوں دیکھتا ہے۔اسی لئے کہ اسے کوئی عجیب چیز نظر آتی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جیسی عجیب چیز اور کون سی ہے اور اگر وہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر اور چیزوںکو دیکھتا ہے تو وہ یقیناً گدھا ہے۔اس کے سامنے خدا تعالیٰ جیسا حسین چہرہ ہے اور وہ دیکھ رہا ہے بلی یا چوہے کو۔تو اس کے گدھا ہو نے میں کیا شک ہے۔پس اسلامی نماز لقاء الٰہی کا ایک زبردست ذریعہ ہے۔مگر دوسرے مذاہب کی نمازوں میں لقاء الٰہی والی صورت ہی نہیں۔گرجامیں پادری نماز پڑھا رہاہوتا ہے تو اس کا کوئی ساتھی لیمپ اٹھائے ہوئےہوتا ہے، کوئی پانی اٹھائے ہوئے ہوتا ہے، کوئی اور کاموں میں مشغول ہوتا ہے۔مگر نماز ان سب کی ہو جاتی ہے لیکن اسلامی نماز میں کلام کرنا اور ادھر ادھر دیکھنا منع ہے جو دوسرے مذاہب کی نمازوں میں منع نہیں۔اسلامی نماز اور دوسرے مذاہب کی نماز وں میں فرق شروع میں صحابہ کرامؓ بھی ایک دوسرے کے ساتھ نماز میں بول لیا کرتے تھے کیونکہ ابھی وہ اسلامی نقطہ نگاہ سےپوری طرح واقف نہیں ہوئے تھے۔نماز پڑھتےہوئے اگر کوئی آجاتا تو وہ نماز پڑھنے والے سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ اب کون سی رکعت ہے اور وہ اسے بتادیتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ نے منع فرمایا۔چنانچہ اسلام کے رو سے باہر سے آنے والے کے السلام علیکم کا جواب دینے کی بھی اجازت نہیں۔کسی کا باپ آجائے، بھائی آجائے، بچہ آجائے، افسر آجائے یا کوئی اور عزیز آجائےاور وہ السلام علیکم کہے تو وہ اس کا جواب نہیں دے سکتا۔وہ تو اس دنیا میں نہیں ہو تا اس دنیا میں ہو تو جواب دے وہ تو خدا تعالیٰ کے سامنے چلا گیا جواب کیا دے۔یہی وجہ ہے کہ جب ہم نما ز شروع کرتے ہیں تو اللہ اکبر کہتے ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ اے میرے بھائیو اور میرے عزیزواور شتہ دارو ! تم بھی مجھے عزیز ہو مگر تم سے زیادہ مجھے خدا تعالیٰ عزیز ہے میں اس کے سامنے جاتا ہوں اور تم سے قطع تعلق کرتا ہوں۔جب نماز ختم ہو تی ہے تو وہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اب واپس آگیاہوں جیسے کوئی باہر سے آنے پر السلام علیکم کہتا ہے اسی طرح وہ بھی کہتا ہے میں باہر گیا ہوا تھا اب واپس آگیا ہوں۔یہ کتنی خالص اور مکمل نماز ہے۔اسلامی نماز کی دعاؤں کے لحاظ سے فضیلت (۶) نماز کے ذریعہ اسلام نے دعا کا رستہ کھولا ہے۔