تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 79
کو مکمل کرنے کی کوشش کی ہے۔روایات میں آتا ہے کہ ایک صحابیؓ سے کسی نے کہا کہ چلو فلاں محلہ میں جا کر نماز پڑھیں۔اس صحابی ؓ نے کہا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اپنے محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرنی چاہیے۔اس لئے میں تو اپنے ہی محلہ کی مسجد میں نماز ادا کروں گا۔پس اسلام کہتا ہے کہ سوائے اس کے کہ کوئی جلسہ کسی دوسری مسجد میں ہو رہا ہو یا وعظ ونصیحت کا کوئی خاص موقعہ میسر آئے اپنے محلہ کی مسجد میں نمازیں ادا کرو۔یہ چیز عیسائیوں میں نہیں، پارسیوں میں نہیں، زردشتیوںاور سکھوں میں نہیں۔ادھر ادھر چلے جانے سے جماعت نہیں بنتی اور نہ نماز باجماعت کی جو غرض ہے وہ پوری ہو تی ہے۔ایک مسلمان اگر اپنے محلہ کی مسجد میں نماز نہیں پڑھتا تو فوراً پکڑا جائے گا۔اگر وہ کہے گا کہ میں فلاں مسجد میں نما زیں پڑھتا ہوں تو اس سے پوچھا جائے گا کہ تم وہاں نمازیں کیوں ادا کرتے ہو۔تم اس محلہ میں رہتے ہو۔اور اسی میں تمہیںنمازیں ادا کرنی چا ہئیں۔اس کے بعد اگر تحقیق کی جائے گی تو کوئی نہ کوئی بات ضرور نکل آئے گی۔مثلاً ہو سکتا ہے کہ وہ کہہ دے کہ مجھے اس مسجد کے امام سے ناراضگی ہے۔اس صورت میں پھر جماعت اور نظام کا فرض ہو گا کہ وہ اس مناقشت کو دور کرے اور اس طرح پھر قومی جتھہ قائم ہوجائے گا۔بہرحال یہ اسلام کی ایک ایسی خوبی ہے جس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں۔(۴) پھر اسلامی نماز میں اللہ تعالیٰ نے صفات الٰہیہ پر غور کرنے کا رستہ کھول دیا ہے۔مسلمان اپنی نمازمیں روزانہ قرآن کریم پڑھتا ہے، دعائیں کرتا ہے رکوع و سجود میں دعائیں کرتا ہے۔سورۃ فاتحہ کے کلمات رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اس کے سامنے آتے رہتے ہیں اور وہ ان پر غور کرتا ہے۔عیسائیوں میں ایک مقررہ دعا ہے جو پادری پڑھ دے گا مگر مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ خود پڑھیں۔اس طرح اسلام نےصفات الٰہیہ پر فکر کا راستہ کھو ل دیا ہے۔(۵) اسلامی نماز کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لقاء کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔اللہ اکبر کہہ دینے کے بعد گویا وہ خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو جاتا ہے۔وہ کسی سے بات نہیں کرتا۔مگر گرجوں میں اگر کوئی خوبصورت لڑکی آجائے تو سب اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں لیکن ہماری نماز میں ادھر اُدھر جھانکنا منع ہے۔نماز پڑھنے والے کلّی طور پر عبادت میں محوہو جاتے ہیں دوسرے کے سلام کا جواب بھی نہیں دے سکتے۔حتی کہ باہر والے کا بھی حق نہیں ہوتا کہ نمازی کی غلطی پر اس کو توجہ دلائے۔مثلاً کوئی نمازی ایک سجدہ زیادہ کر دے یا کم کر دے تو ایک ایسا آدمی جو نمازمیں شامل نہیں اسے اس غلطی پر آگاہ نہیں کر سکتا۔گویا ایک مسلمان جب نماز پڑھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہو جاتا ہے اور کسی باہر والے کا یہ حق نہیں رہتا کہ وہ اس کے کام میں دخل دے ہاں وہ شخص غلطی نکال سکتا ہے جو اس