تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 4

نے مضمون سمیٹنے شروع کر دیئے ہیں۔( میں نے پہلے لکھا ہے کہ یہ سورۃ زمانۂ نبوت کے ابتدا میں نازل ہوئی تھی مگر اب میں نے لکھا ہے کہ اس سورۃ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اب قرآن کریم ختم ہو رہا ہے۔بظاہر اس میں اختلاف نظر آتا ہے مگر در اصل اختلاف نہیں۔میں پہلے سیپارہ کی تفسیر میں اس امر کو ثابت کر چکا ہوں کہ قرآن کریم کی دو ترتیبیں ہیں۔ایک ترتیب زمانۂ نزول کے ابتدائی دور کے لحاظ سے ہے اور دوسری اسلام کی عمر یعنی زمانۂ قیامت تک کے حالات کے لحاظ سے ہے اور وہی اصلی ترتیب ہے۔قرآن کریم کا یہ معجزہ ہے کہ دونوں زمانوں کی ترتیب اس کی بلیغ حکمتیں رکھتی ہے۔پس گویہ سورۃ ابتدائی زمانہ میں نازل ہوئی تھی مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ دوسری ترتیب میں اسے قرآن کریم کے آخر میں رکھاجائے گا اس لئے اس کا مضمون اس طرح نازل کیا گیا کہ وہ قرآن کریم کے آخر میں رکھا جاکر قرآنی ترتیب کی شان کو ظاہر کرے۔چنانچہ اس کا مضمون باوجود اس کے کہ یہ سورۃ ابتدا میں نازل ہوئی تھی بعد میں نازل ہو نے والی سورتوں کے ساتھ اس طرح جڑ جاتا ہے کہ گویا یہ سورۃ ان بعد میں نازل ہو نے والی سورتوں کے بعد میں نازل ہوئی ہے ) اور سورۃ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قرآن کریم اب ختم ہو نے والا ہے۔سارے مضامین اس میں آ گئے ہیں۔سب مطالب اس میں بیان کر دیئے گئے ہیں۔او رتمام قسم کی خوبیاں اور اوصاف اس میں پائے جاتے ہیں اس لئے اس سورۃ کو اگر کوثر کہہ دیں تو بے جا نہ ہوگا۔سورۃ کوثر میں درحقیقت قرآن کریم کا نام بتایا گیا ہے اور یہ مضمون لوگوں کے سامنے رکھا گیا ہے کہ جب شروع میں یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا تھا اور قرآن کریم کی ابھی چند چھوٹی چھوٹی سورتیں نازل ہوئی تھیں اس وقت جب یہ کہا جاتا تھا کہ اس کتاب میں سب معارف پائے جاتےہیں، سب مضمون پائے جاتے ہیں اور یہ انسان کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہے تو تم کہا کرتے تھے اس میں ہے کیا چند اخلاقی باتیں بیان کی گئی ہیں۔اب اللہ تعالیٰ انہیں بتاتا ہے کہ ابتدا میں تو یہ کتاب تمہارے نزدیک چند اخلاقی باتوں کا مجموعہ تھی لیکن اب جبکہ یہ کتاب ختم ہو رہی ہے۔بولو! کیا یہ چند اخلاقی باتیں ہیں۔کیا اس میں تمام معارف اور مطالب بیان نہیں کئے گئے۔کیا اس میں سارے مضامین نہیں آگئے۔کیا یہ انسان کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے والی نہیں؟ گویا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے خاتمہ پر اس کے نزول کے مقصد کے تمام و کمال طور پر پورا ہو جانے کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی ہے اور بتا یا ہے کہ جو دعویٰ ابتداء اسلام میں کیا گیا تھا اب وہ قرآن کریم کے مکمل ہونے سے لفظاً لفظاً پورا ہو گیا ہے۔پھر اس سورۃ میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے وہ بھی تمام علوم کے جامع ہیں گویا اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم