تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 3
اور اس وقت یہ سورۃ ان کے خیال کی تردید میں نازل ہوئی تھی۔(روح المعانی زیر آیت اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ) لیکن جب روایتوں سے یہ ثابت ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے تو محض ابتر کے لفظ سے یہ قیاس کر لینا کہ یہ سورۃ مدنی ہے درست نہیں۔کفار آپ کے بیٹے ابراہیم کی پیدائش تک کیوں خاموش رہے تھے۔ابراہیم آپؐکی وفات سے تین سال پہلے پیدا ہوئے تھے گویا آپ کی وفات سے تین سال قبل تک آپ کو کوئی بھی ابتر نہیں کہتا تھا۔کون عقلمند یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہو اور وہ وفات پائے تو پھر آپ کو ابتر کہیں۔ابراہیم کی پیدائش سے پہلے بیس سال میں بھی تو آپ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی اور پھر آپ پر بڑھاپا بھی آیا ہوا تھا۔اس وقت کفار نے آپ کو ابتر کیوں نہیں کہا۔جب ابراہیم کی پیدائش تک وہ انتظار کرتے رہے تو اس کی وفات کے بعد انہوں نے کیوں انتظار نہیں کیا۔ابراہیم ڈیڑھ سال کی عمر میں فوت ہوئے تھے تو کیا اس کے بعد آپ کی نرینہ اولاد نہیں ہوسکتی تھی۔کیا ڈیڑھ سال کے عرصہ میں انسان ناکارہ ہو جاتا ہے؟ یہ محض قیاسات ہیں عقل ان کی تائید نہیں کرتی۔یہ سورۃ میرے مقرر کردہ اصول کے مطابق (جو میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ قرآن کریم کی آخری چند سورتوں میں سے باری باری ایک سورۃ زیادہ تر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانہ سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری زیادہ تر آپ کی امت کے آخری زمانہ سے تعلق رکھتی ہے) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ جو سورۃ آپؐکے ابتدائی زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہو اس میں آپؐکی امّت کے آخری زمانہ کا ذکر نہ ہو یا جو سورۃ آپؐکی امت کے آخری زمانہ سے تعلق رکھتی ہو اس میں آپ کے ابتدائی زمانہ کا ذکر نہ ہو ذکر تودونوں زمانوں کا پایا جا سکتا ہے۔لیکن مضمون میں زیادہ تر اہمیت ابتدائی زمانہ کو ہو گی یا آخری زمانہ کو ہوگی۔چونکہ سورۃ ماعون رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے آخری زمانہ کے ساتھ متعلق ہے جبکہ اس کی حالت خراب ہوجانی تھی اور آپ کی امّت کے ایک حصہ نے ریا کی نمازیں پڑھنے لگ جانا تھا۔یعنی نمازوں کا مغز جاتے رہنا تھا اور آپ کی امت نے دیگر خرابیوں کا شکار ہوجانا تھا اس لئے اب سورۂ کوثر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ابتدائی زمانہ کا ذکر ہے۔سورۂ کوثر کے بعد صرف چھ چھوٹی چھوٹی سورتیں باقی رہ جاتی ہیں۔میرے نزدیک چونکہ اب قرآن کریم کا خاتمہ نزدیک آگیا ہے اس لئے جیسا کہ سمجھ دار مصنّفوں کا قاعدہ ہے کہ وہ کتاب کے آخر میں آکر مضمون کو سمیٹتے ہیں کبھی خلاصہ بیان کرتے ہیں اور کبھی مضمون کے مغز کو بیان کرتے ہیں تا وہ قارئین پر اثر ڈال سکیں۔اسی طرح قرآن کریم اب خاتمہ کے قریب آپہنچا ہے۔اس سورۃ کے بعد صرف چھ سورتیں باقی رہ جاتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ