تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 55
نہ ملے تو یہ ثبوت ہو گا اس بات کا کہ آپ کو کوثر ملا۔پس کوثر کے یہ معنے ہوئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعا کی تھی اور جو وعدہ ہم نے ان سے کیا تھا وہ نہ صرف ہم نے پورا کر دیا ہے بلکہ اپنے پاس سے زائد بھی دیا ہے اور اس قدر دیا ہے کہ کسی اور نبی میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔غرض سورۂ بقرہ رکوع ۱۵ میں جس دعا کا ذکر کیا گیا تھا چونکہ اس دعا کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مبعوث ہوئے تھے اس لئے یہاں سورۃ کوثر میں جہاں قرآن کریم اپنے اختتام پر پہنچ رہا ہے۔بتایا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا وہ دعائیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی تھیں وہ ہم نے پوری کر دیں یا نہیں اور کیا وہ چیزیں جو دعا میں مانگی گئی تھیں ہم نے تجھے وہ اتنی نہیں دیں کہ کسی اورنبی کو اتنی نہیں ملیں۔دعائے ابراہیمی چونکہ ایک اہم دعا ہے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی بنیاد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف آیات میں مختلف رنگوں میں اس دعا کے پورا ہو نے کا ذکر فرمایا ہے۔سورۃ آل عمران رکوع ۱۷ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔(اٰلِ عـمران:۱۶۵) اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑااحسان کیا جبکہ اس نے ان کی قوم میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے۔ان کے دلوں کو پاک کرتا ہے، قوم کو ترقی کے ذرائع بتلاتا ہے، کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ اس سے پہلے نہایت خطرناک گمراہی میں مبتلا تھے اس جگہ پھر وہی چاروں چیزیں بیان کی گئی ہیں جن کا دعائے ابراہیمی میں ذکر آتا تھا۔پھر سورۂ جمعہ رکوع۱ میں فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔(الـجمعۃ:۳) وہ خد اہی ہے جس نے اس قوم میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کے دلوں کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور وہ اس سے پہلےبڑی گمراہی میں مبتلا تھے۔اسی طرح قرآن کریم میں بعض اور مقامات پر بھی اس دعا کے ٹکڑوں کو بیان کیا گیا ہے۔سورۂ نساء ع ۸ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَيْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِيْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ