تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 54
یہ دعا سورۂ بقرہ کے پندرھویں رکوع میں آتی ہے۔اس کے بعد اسی سورۃ کے اٹھارویں رکوع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَ يُزَكِّيْكُمْ وَ يُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ۔یعنی ہم نے تمہارے اندر وہ رسول بھیج دیا ہے جس کی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی اور آگے وہی باتیں بیان کی ہیں جو دعائے ابراہیمی میں بیان کی گئی تھیں وہاں کہا تھا يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَوہ ان کو تیری آیات پڑھ پڑھ کر سنائے۔یہاں فرمایا يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وہ تم کو ہماری آیات پڑھ پڑھ کر سناتا ہے وہاں فرمایا تھا يُزَكِّيْهِمْ وہ ان کے دلوں کوپاک کرے یہاں فرماتا ہے يُزَكِّيْكُمْ وہ تمہارا تزکیہ کرتا ہےوہاں فرمایا تھا يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وہ ان کو کتاب اور حکمت سکھائے۔یہاں فرماتا ہے يُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وہ تم کو کتاب اور حکمت سکھاتاہے۔غرض جو دعائیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے مانگی تھیں وہ سب کی سب یہاں بیان کر دی ہیں جس سے صاف طور پر اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نےجو دعا کی وہ خدا تعالیٰ نے سن لی۔گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ یہ ہوا کہ وہ دعائے ابراہیمی کے پورا کر نے والے ہیں اور دعا میں چار باتیں کہی گئی تھیں (۱)تلاوتِ آیات (۲) تعلیمِ کتاب(۳) تعلیمِ حکمت (۴) تزکیۂ نفوس۔گویا آپ کی بعثت کی غرض یہ چار عظیم الشان کام تھے۔مگر ظاہر ہے کہ دنیا میں جو نبی بھی آئے گا وہ یہی چاروں کام کرے گا۔ان کے علاوہ اس کا کوئی کام ہی کیا ہو سکتا ہے۔پس محض اتنی بات سے آپ کو کوثر کا ملنا ثابت نہیں ہو سکتا۔آپ کو کوثر کا ملنا تب ثابت ہو سکتاہے جب ہر کام میں آپ کو ایسا نمایا ں مقا م حاصل ہو کہ دوسرے انبیاء میں اس کی مثال تلاش کرنے سے بھی نہ مل سکتی ہو۔اگر آپ نے لوگوں کو آیات پڑھ کر سنا دیں تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وعدہ پورا ہو گیا۔لیکن اگر آپ نے دوسرے انبیاء سے بڑھ کر آیات سنائی ہیں تو پھر بےشک یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کو کوثر ملا۔اسی طرح اگر آپ نے کتاب سکھائی تو ابراہیمی دعا پوری ہوگئی لیکن اگر آپ نے ایسی کتاب سکھائی کہ دوسرے انبیاءمیں اس کی مثال نہیں ملتی تو یہ بات اس بات کا ثبوت ہو گی کہ آپ کو کوثر ملا۔پھر اگر آپ نے حکمت سکھائی تو حکمت سکھا نےسے وعدہ ابراہیمی تو پورا ہو گیا لیکن اگر آپ نے حکمت سکھائی اور اتنی سکھائی کہ دوسرے انبیاء میں سے کسی نبی نے نہیں سکھائی تو یہ آپ کو کوثرملا۔پھر اگر آپ يُزَكِّيْهِمْ کے مطابق تزکیۂ نفوس کر دیتےتو وعدۂ ابراہیمی پورا ہو جاتا۔لیکن اگر آپ ایسا تزکیہ کریں کہ اس کی دنیا میں کوئی مثال