تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 56

وَاٰتَيْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِيْمًا۔(النسآء:۵۵) فرمایاکیا یہود اس بات پر حسد کرتے ہیں کہ مکہ والوں کو بھی ہم نے اپنے فضل سے کچھ عطا فرمایا ہے۔بےشک بنواسحاق بھی ابراہیم کی اولاد ہیں اور ان پر بھی ہم نے بڑے بڑے فضل کئے ہیں مگر مکہ والے بھی تو ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیںکیا خدا تعالیٰ ان پر فضل نازل نہ کرتا۔یہود کو تو اس بات پر خوش ہونا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سارے خاندان کو عزت بخشی ہے۔مگر یہ لوگ بجائے خوش ہو نے کے مکہ والوں پر حسد کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کیوں نوازا ہے۔انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ ہم نے آلِ ابراہیم کو کیا کیا دیا تھا اور یہ بھی اس آل کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔جس طرح انہیں حکومت ملی تھی انہیں بھی ملنی چاہیے تھی اور اب جبکہ ہم ان کو بھی اپنے فضل سے حصہ دینے لگے ہیں ان کو غصہ کیوں آرہا ہے۔اس بات کا ثبوت کہ اس آیت میں بنو اسماعیل کا ہی ذکر ہے پہلی آیات سے ملتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے پہلے اسی رکوع میں فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ يَقُوْلُوْنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَبِيْلًا۔(النسآء:۵۲) تو دیکھ تو سہی ان لوگوں کو جنہیں ہم نے کتاب میں سے ایک حصہ دیا ہے وہ لغو باتوں اور شیطانی تعلیموں کو مانتے ہیںاور وہ کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ مومنوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں حالانکہ وہ مشرک ہیں اور مومن مؤحّد۔اس کے بعد فرماتا ہے اگر بنو اسماعیل کو خدا تعالیٰ کے فضل سے کچھ مل گیا تھا تو انہیں تو خوش ہو نا چاہیے تھا کہ ان کے خاندان کی عزت ہو گئی نہ کہ ان کے دلوں میں غصہ پید اہو جاتا۔پھر سورۂ نساءرکوع ۱۷ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا۔(النسآء:۱۱۴) اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تجھے وہ کچھ سکھایا ہے جو اس سے پہلے تو نہیں جانتاتھا اور تجھ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے اس میں بھی کتاب اور حکمت کے نزول کا ذکر کیا گیا ہے۔پھر سورۂ احزاب ع۴ میں اہلِ بیت کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ اذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيْفًا خَبِيْرًا۔(الاحزاب:۳۵) اے اہل بیت جو کچھ تمہارے گھروں میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور حکمت میں سے پڑھایا جاتا ہے اس کو یاد رکھو۔