تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 53

ایک ایک آیت اس سورۃ کے لئے بطور کنجی ہے جس سے تمام سورۃ کو حل کیا جا سکتا ہے۔میں ابھی نو جوان ہی تھا کہ بعض دوستوں نے مجھ سے خواہش کی کہ میں انہیں قرآن کریم پڑھاؤں ہم نے سورۂ بقرہ شروع کی۔پڑھاتے پڑھاتے میرے دل میں ڈالا گیا کہ سورۂ بقرہ کی کنجی یہ آیت ہے کہ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔پھرمیں نے اس آیت کے مضمون کو ساری سورۃ پر چسپاں کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ واقعہ میں ساری سورۃ اسی آیت کے گرد چکر کھاتی ہے۔اب مجھ پر اللہ تعالیٰ نے یہ کھولا ہے کہ سورۂ کوثر اس دعائے ابراہیمی کا جواب ہے جس کاسورۂ بقرہ میں ذکر آتا ہے اور اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ وہ وعدہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہم نے کیا تھا وہ نہ صرف پو را ہوگیا ہے بلکہ ہم نے ہر صفت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر عطا فرمایا ہے۔دعائے ابراہیمی یہ تھی کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔اے ہمارے رب ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ تو مکہ والوں میں اپنا ایک نبی اور رسول مبعوث فرما جو انہی میں سے ہو غیر قوم میں سے نہ ہو۔رَسُوْلًا کا لفظ بتاتا ہے کہ دعا آئندہ زمانہ کے متعلق تھی۔کیونکہ جب یہ دعا کی گئی تھی اس وقت دو رسول تو موجود تھے یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام دونوں نبی تھے ان کا اپنی موجود گی میں یہ دعا کرنا کہ اے خدا تو ان میں سے ایک رسول مبعوث فرما تبھی درست ہو سکتا ہے جب یہ دعا آئندہ زمانہ کے متعلق ہو۔ورنہ ایک چیز کے ہو تے ہوئے یہ کہنا کہ اے اللہ تو ہمیں وہ چیز دے عجیب بات معلوم ہو تی ہے اور یا پھر یہ دعا کی جاتی کہ رُسُلًا مِّنْھُمْ تب بھی ہم کہہ سکتےتھے کہ پے در پے رسول آنے کی دعاہے۔مگر اس آیت میں رُسُلًا مِّنْھُمْ نہیں کہا رَسُوْلًا مِّنْهُمْ کہا ہے جس سے آئندہ زمانہ میں کسی خاص رسول کی طرف اشارہ مقصود ہے۔چنانچہ اس جگہ رَسُوْلًا کی تنوین تعظیم کے لئے ہے پس رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ کہ یہ معنے ہوں گے کہ اے ہمارے رب تو اسمٰعیل (علیہ السلام) کی نسل میں سے عظیم الشان رسول مبعوث فرما۔مِنْهُمْ جو انہی میں سے ہو۔تیرے وعدے بنو اسحاق سے بھی ہیں مگر بنو اسمٰعیل کو بھی فراموش نہ کر دینا بلکہ انہی میں سے ایک عظیم الشان رسول بھیجئو جس کے کام یہ ہو ں کہ (۱)يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وہ ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے(۲)وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ اور وہ ان کو ایک کامل کتاب سکھائے (۳) وَ الْحِكْمَةَ اوراحکام کی اغراض اور فلسفہ سکھائے (۴) وَيُزَكِّيْهِمْ اور ان کے دلوں کو پاک کرے اور دنیوی ترقی کے راستے بتائے اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ تو بڑا غالب اورحکمتوں والا خدا ہے اور اس غلبہ اور حکمت کے ماتحت تجھ سے ایسی التجا کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔