تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 44
وجہ سے ہم اسے اس فتح سے محروم کرتے ہیںجس کا ہم نے وعدہ کیا تھا۔جاؤ اب چالیس سال تک جنگلوں میں آوارہ پھرو اور اپنے گناہوں کی معافیاں مانگو۔پھر اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے گا۔۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو چالیس سال تک جنگلوں میں بھٹکنے کے بعد کنعان ملا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کو آپ کی وفات کےبارہ سال کے عرصہ میں ہی ساری متمدن دنیا پر حکومت مل گئی۔یہ بھی ایک بہت بڑی فضیلت ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حاصل ہے۔نویں فضیلت (۹) ایک اور امتیازی خصوصیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں یہ حاصل ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سلسلہ ختم ہوگیا مگر آپؐکا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موسوی سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ تک ممتد رہا بلکہ اس کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک بھی پہنچا مگر صرف نام کے طور پر۔ورنہ حضر ت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ہی لوگ یہ کہنے لگ گئے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑے ہیں۔بلکہ انہوں نے آپ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دینا شروع کر دیا تھا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا اور قیامت تک چلتا چلا جائے گا۔دسویں فضیلت (۱۰)حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آخری خلیفہ یعنی مسیحؑ ناصری کی جماعت نے آپ کو جواب دے دیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی افضلیت کا انکار کر دیا۔اس میں کچھ دخل اس بات کا بھی تھا کہ حضرت مسیح کی زبان سے بعض ایسے ذو معنے فقرے نکلے جن سے آپ کی قوم دھوکا کھاگئی اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھوڑ بیٹھی لیکن ہمارے سلسلہ کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام نے جو محمدی سلسلہ کے آخری خلیفہ ہیں اگر کچھ کہا تو یہ کہ ؎ وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے یعنی مجھے جو بھی کمالات ملے ہیں وہ سب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے طفیل ہیں یہ خیال نہ کرنا کہ میں آپ کے مدّ ِمقابل کی چیزہوں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہا۔لیکن ہمارے بانیٔ سلسلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خلیفہ نے نہایت ادب کے ساتھ کہا۔؎ وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے یعنی مجھے اپنے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نسبت ہی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک شعر ہے جس پر لوگ اعتراض کرتے ہیں لیکن ہمیں تو اس میں لطف