تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 43

انہوں نے آپ کی بیعت کی اس وقت ہم نے آپ سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر دشمن نے مدینہ پر حملہ کیا تو ہم آپ کی اپنی جان و مال سے حفاظت کریں گے۔لیکن اگر آپ مدینہ سے باہر نکل کر دشمن سے لڑے تو پھر ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی کیونکہ ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ دشمن سے باہر نکل کر لڑسکیں۔آپ جو بار بار پو چھتے ہیں تو شاید آپ کا اشارہ اس معاہدہ کی طرف ہے کیونکہ یہ لڑائی مدینہ سے باہر ہو نے والی ہے۔آپؐنے فرمایا تمہاری بات ٹھیک ہے۔اس انصاری نے کہا یا رسول اللہ جب ہم نے آپ سے وہ معاہدہ کیا تھا اس وقت آ پ کی شان ہم پر ظاہر نہیں ہوئی تھی اب ہم کچھ عرصہ تک آپ کے ساتھ رہے ہیں اور ہم نے آپ کے اخلاق اور تعلق باللہ کو دیکھ لیا ہے اور آپ کی شان ہم پر ظاہر ہو چکی ہےاس لئے اب کسی معاہدے کا سوال ہی نہیں۔یا رسول اللہ سامنے سمندر ہے (بدر کے میدان سے کچھ فاصلہ پر سمندر تھا جس کی طرف اس انصاری نے اشارہ کیا اور یہ بھی اس لئے کہ عرب لوگ پانی سے بہت ڈرتے تھے) آپ ہمیں حکم دیجئے کہ ہم سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں تو ہم اپنے گھوڑے سمندر میں ڈال دیں گے اور ذرا بھی چون و چرانہیں کریں گے پھر اس نے کہا یا رسول اللہ اگر لڑائی ہی مقدر ہے تو ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے۔آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گذرے۔اس واقعہ کو دیکھیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے اس واقعہ کو سامنے رکھیں جب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا اِذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(المآئدۃ:۲۵) اور پھر غور کریں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہؓ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں کتنا عظیم الشان فرق ہے۔معلوم ہوتا ہے اس وقت خدا تعالیٰ نے اس انصاریؓ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ کہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ سمجھتے ہوں کہ آپ کی اُمت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت کی طرح پیچھے ہٹ رہی ہے۔چنانچہ اس انصاریؓنے کہا یا رسول اللہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ تو جا اور تیرا رب دونوں دشمن سے لڑتے پھرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن ہماری لاشوں پر سے گذرے تو گذرے ورنہ جب تک ہم زندہ ہیں دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔یہ کتنی زبر دست فو قیت ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حاصل ہے۔آٹھویں فضیلت (۸) حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب آپ کی قوم نے کہا اِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(المآئدۃ:۲۵) تو خدا تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ تیری قوم نے بہت بڑی گستاخی کی ہے اس گستاخی کی