تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 42

اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتا دیاکہ مقابلہ یقینی طور پر مکہ سے آنے والے لشکر کے ساتھ ہو گا قافلہ کے ساتھ نہیں ہوگا۔یہ لشکر مسلمانوں سے تعداد میں کئی گنا زیادہ تھا اور طاقت میں بھی ان سے بڑھ کر تھا۔وہ سب آزمودہ کار سپاہی تھے اور پھر پو ری طرح مسلّح تھے اور اگرتمدن کے لحاظ سے دیکھا جائے تو دونوں لشکر برابر تھے۔مسلمان بھی عرب تھے اور مقابلہ پر دشمن بھی عرب تھا۔مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کنعانی لوگ محض قبائلی گروہ تھے اور بنی اسرائیل ایک متمدن اور منظّم قوم تھی یعنی کنعانی لوگ جاہل اور غیر تعلیم یافتہ تھے اور ان کے مقابلہ میں بنی اسرائیل منظّم اور متمدن لوگ تھے۔مگر باوجود اس کےجب لڑائی کا وقت آیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے یہ نہیں کہا حالانکہ طاقت کو دیکھا جائے تو دشمن بہت زیادہ مضبوط اور طاقت ور تھا۔اور پھر مسلمانوں سے بہت زیادہ تجربہ کار بھی تھا۔مسلمان اتنے تجربہ کار نہیں تھے بلکہ ان میں سے ایک حصہ تو مدینہ والوں کا تھا جنہوں نے کسی بڑی لڑائی میں کبھی بھی حصہ نہیں لیا تھا(الطبقات الکبرٰی لابن سعد غزوۃ بدر) پھر تعداد کو لیا جائے تو مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے اور دشمن کا لشکر ایک ہزار تھا۔پھر دشمن کے پاس سامان جنگ بھی موجود تھا اور اس کے پاس گھوڑے بھی تھے اور جتنا گھوڑا جنگ میں کام آ سکتا ہے اتنا اونٹ کام نہیں آسکتا۔مسلمانوں کے پاس سارے لشکر میں صرف ایک گھوڑا تھا۔گویا مسلمانوں کا لشکر کلّی طور پر کمزور تھا اور دشمن کئی گنا طاقت ور تھا۔اس وقت آپؐنے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا اب مجھے یقینی طور پر معلوم ہو گیا ہے کہ ہمارا اس لشکر سے مقابلہ ہو گا جو مکہ سے ابو جہل کی کمان میں آ رہا ہے آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟ مہاجرین یکے بعد دیگرے اٹھے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم لڑیں گے ایک مہاجر جب بیٹھ جاتا تو دوسرا اٹھتا پھر تیسرا اٹھتا پھر چوتھا اٹھتا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے جاتے بتاؤ آپ لوگوں کی کیا رائے ہے۔انصار بھی اس لشکر میں تھے مگر وہ خاموش تھے۔وہ یہ سمجھتے تھے کہ مکہ سے جو لشکر آرہا ہے اس میں مہاجرین کے بھائی بند ہیں۔اگر ہم نے کہا کہ ہم لڑیں گے تو مہاجرین کے چونکہ وہ بھائی بند ہیں۔کوئی چچا ہے، کوئی بھائی ہے اور کوئی بھتیجا ہے۔اس لئےان کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ انصار کو ہم سےمحبت نہیں تبھی وہ اس جوش سے ہمارے رشتہ داروں کا مقابلہ کر نے کے لئے تیار ہیں مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا کے اے لوگو مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری اٹھے اور انہوں نےکہا یا رسول اللہ شاید آپ کی مراد ہم انصار سے ہے ورنہ آپ کو رائے تو مل رہی ہے آپ نے فرمایا ٹھیک ہے اس انصاری نے کہا یا رسول اللہ ہم تو مہاجرین کے ادب کی وجہ سے اب تک چپ تھے ہم ڈرتے تھے کہ اگر ہم نے کہا کہ ہم لڑائی کے لئے تیار ہیں تو مہاجرین کے جذبات کو ٹھیس لگے گی۔پھر اس انصاری نے کہا یا رسول اللہ جب ہم میں سے پہلی دفعہ بہتّر۷۲ آدمی آپ کے پاس گئے اور