تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 41
پیش آیا لیکن وہاں کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔بنی اسرائیل بھاگتے ہوئےآرہے تھے وہ دل میں ڈر رہے تھے کہ کہیں فرعون ان کے تعاقب میں نہ آجائے چنانچہ جب انہوں نے فرعون اور اس کے لشکر کو دیکھا تو انہوں نے گھبرا کر کہا کہ اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ۔اے موسیٰ ہم تو پکڑے گئے وہاں موسیٰ کی قوم نے کوئی بہادری نہیں دکھائی۔پھر جب لڑائی کا وقت آیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ جاؤ اور دشمن سے لڑو تو انہوں نے لڑائی کرنے سے انکار کر دیا۔حالانکہ کنعان کاملک بہت چھوٹا ہے۔سارے فلسطین کا رقبہ دس ہزار مربع میل ہے مگر کنعان کا رقبہ دو تین ہزار مربع میل ہے۔اتنے چھوٹے سے علاقہ کو فتح کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو حکم دیامگر قرآن کریم اور بائبل دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو کہا کہ تم نے تائیدات سماوی کو دیکھ لیا ہے تم اس ملک پر حملہ کرو اور اسے فتح کرکے اس میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت قائم کرو تو ان کی قوم نے کہا اِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(المآئدۃ:۲۵) اے موسیٰ جاؤ تم اور تمہاراخدا دشمن سے لڑتے پھرو ہمیں تو ملک فتح کر کے دے دو گے تو ہم لے لیں گے لڑائی کرنے کے لئے ہم تیار نہیں۔تم کہتے تھے کہ خدا تعالیٰ تم کویہ ملک دے گا۔اب وہ خودہی دے تو دے ہم کیوں لڑتے پھریں۔کیا اس کا ہمارے ساتھ وعدہ نہیں تھا۔گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آٹھ دس سال کی صحبت نے ان کے اندر اتنا بھی عرفان پیدا نہ کیا کہ خدا تعالیٰ کے وعدوں کو پورا کر نے کے لئے بندے کو بھی کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے موسٰی کو صاف جواب دے دیا اور کہہ دیا کہ اِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(المآئدۃ:۲۵) اے موسیٰ جاؤ تم اور تمہارا رب دونوں د شمن سے لڑتے پھرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ملی کہ شام سے ایک قافلہ آرہا ہے اور وہ قبائل کومسلمانوں کے خلاف اکسا تا آرہا ہے تو آپ اپنے ساتھ کچھ آدمی لے کر اس کی شرارتوں کا سدّ باب کر نے کے لئے نکلے۔سارے صحابہ ؓ آپ کے ساتھ نہیں گئے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ چھوٹا سا قافلہ ہے جس کے اثر کو زائل کرنا مقصود ہے تا عرب کے لوگ مسلمانوں پر حملہ کرنے میں دلیر نہ ہو جائیں کوئی لڑائی تو ہے نہیں ادھر آپؐکو الہام میں بتایا گیا کہ مکہ سے بھی ایک بڑا بھاری لشکر اس قافلہ کی مدد کے لئے آرہا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی اشارہ کر دیا کہ صحابہ کو بتانا نہیں یہ ان کے لئے امتحان کا وقت ہے۔آپؐچلتے چلے گئے۔جب آپ کئی منزلیں آگے نکل گئے تو آپ نے صحابہؓ کو جمع کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ دشمن کا ایک بڑا بھاری لشکر مکہ سے آرہا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارا مقابلہ یا تو اس لشکر کے ساتھ کرا دے گا اور یا شام سے آنے والےقافلہ کے ساتھ کرا دے گا۔ابھی آپ پر اس کا پورا اظہار نہیں ہوا تھا کہ آخر کس سے مقابلہ کرنا پڑے گا(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام غزوۃ بدر الکبرٰی)۔پھر آپ اور آگے چلے