تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 455

ہیں۔پھر اسلام کے خلاف لڑنے والوں کی انجمنیں ہیں اور تو اور مولویوں کو دیکھو۔جو کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے تھے ان کی بھی انجمنیں ہیں اور کانفرنسیں ہوتی ہیں۔اسی طرح پادریوں کی انجمنیں ہیں اور وہ تنظیم کے ماتحت کام کرتے ہیں۔الغرض یہ وہی پیشگوئی ہے جو سورۃ الناس کی آخری آیات میں بیا ن ہوئی ہے۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے اس سورۃ کے ابتدا میں خدا تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر تھا جو انسانی تین حالتوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔یعنی پیدائش، زندگی اور موت کے ساتھ۔اور یہ بتایا گیا تھا کہ تمہیں دعا کرنی چاہیے کہ ہرحالت میں تمہارا تعلق خدا تعالیٰ کی ان صفات کے ساتھ رہے اور کبھی منقطع نہ ہو۔اب مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ میں ان وسوسوں کی طرف اشارہ کیا جو تینوں زمانوں کے متعلق پیداہو کر خدا تعالیٰ سے تعلق منقطع کرا سکتے ہیں مثلاً کبھی یہ خیال آسکتا ہے کہ پیدا کرنے والا ہی کوئی نہیں۔کبھی یہ خیال آسکتا ہے کہ انسان کے پیدا کرنے کی کوئی غرض ہی نہیں۔کبھی انسان کہتا ہے کہ کوئی ایسی ہستی نہیں جو جزا و سزا دے۔کبھی الوہیت کے متعلق وسوسہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو عبادت کی کیا ضرورت ہے۔اس طرح قسم قسم کے وساوس پیدا ہوکر خدا تعالیٰ سے تعلق منقطع ہوجا تا ہے۔اس قسم کے وساوس مختلف وجوہات کی بنا پر پیدا ہوسکتے ہیں۔کبھی مخفی ہستیوں سے کبھی بدروحوں سے۔کبھی ایسی بیماریوں سے جن میں انسان مبتلا ہوکر شبہات اور شکوک کا شکار ہوجاتا ہے۔کبھی ایسے مکانات اور جگہوں سے جہاں شبہات پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح انسانوں میں سے بھی ایسے ہوتے ہیں جو شبہات ڈالتے ہیں۔پس ان سب امور سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دعا سکھائی کہ ہر وہ امر جو شبہات پیداکرنے کا موجب ہو سکتاہے۔میں اس سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتاہوں۔اور یہ چاہتاہوں کہ میرا خدا تعالیٰ کی ربوبیت، ملکیت اور الوہیت سے تعلق رہے۔میری ابتدا بھی اچھی ہو، انتہا بھی اچھی ہو اور میری زندگی کی ہر تبدیلی بھی اچھی ہو۔پس ان آیات میں ایک جامع دعا سکھائی گئی ہے۔سورۃ الناس قرآن کریم کی آخری سورۃ ہے۔اور جب انسان سارا قرآن کریم پڑھ لیتا ہے تو اس کے دل میں گھمنڈ پیدا ہوسکتا ہے کہ اب تو میں نے سارا قرآن پڑھ لیا اور اب میں شیطان سے محفوظ ہوگیا ہوں اور کوئی ٹھوکر نہیں کھا سکتا اس قسم کے خیالات چونکہ تباہ کرنے کا موجب ہوسکتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے آخرمیں فرمایا کہ اے بندے جسے اب قرآن کریم پڑھنا اور اسے ختم کرنا نصیب ہواہے تو یہ نہ سمجھ کہ تو شیطان کے پنجہ سے محفوظ ہوگیا ہے۔بالکل ممکن ہے کہ رب العالمین خدا کو دیکھ کر او راس کی صفت کا اپنے آپ کو مورد پا کر تُو ٹھوکر