تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 456
کھا جائے۔خدا کے فضل ہر انسان پر ہر گھڑی نازل ہورہے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ جب قرآن پڑھ کر خدا کے فضلوں کی طرف تیری توجہ ہو اور اس وقت خدا کی ربوبیت تیرے لئے ظاہرہوتو تُو گھمنڈ میں آجائے۔او راس طرح ٹھوکر کھا جائے یا درکھو کہ خدا رَبِّ النَّاسِ ہے اس کے فیوض معمولی سے معمولی انسان پر بھی ہورہے ہیں۔تجھ پر اگر کوئی فضل نازل ہوتاہے تو اس وجہ سے کوئی گھمنڈ نہ کر اور ٹھوکر نہ کھا۔بلکہ سمجھو کہ جب تیرے دل میں خدا کی برکت اور فیض حاصل کرنے کی تڑپ پیداہوئی تو خدا نے اپنی صفت ربوبیت کے ماتحت تجھ پر کچھ نازل کر دیا۔ہوسکتا ہے کہ اس وقت تک تیرے اندر پوری پاکیزگی نہ پیدا ہوئی ہو۔پس تجھے دعا کرنی چاہیے کہ میں اس خدا سے پناہ مانگتاہوں جوسب کا رب ہے اور کہتا ہوں اے خدا جب تومیری حالت ناقص ہونے کی وجہ سے مجھ پر ناقص نعمتیں نازل کرتا ہے اور اس طرح ہمیشہ کے لئے نیک انجام ہونا مشکل ہے اس لئے میں تجھ سے ہی التجا کرتا ہوں کہ تو مجھ پر حقیقی رحمتیں نازل فرما اور ہر قسم کی ٹھوکروں سے بچا۔پھر بعض قرآن کریم پڑھنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ جب قرآن کریم ختم کر لیتے ہیں تو اس وقت ان کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نوکروں اور خادموں میں شامل ہوجاتے ہیں۔گویا اتنی نیکی ان میںپیدا ہوجاتی ہے کہ جس طرح سرکاری افسر ہوتے ہیں۔اسی طرح کا درجہ انہیں مل جاتا ہے ان کی عام حالت نہیں رہتی۔اس وقت بھی ٹھوکر کا خطرہ ہوتا ہے۔اس لئے فرمایا کہو مَلِکِ النَّاسِ اے خدا یہ بھی نہ ہو کہ جب مجھ پر تیرے ایسے فضل نازل ہوں جیسے افسروں پر بادشاہ کے ہوتے ہیں تو اس وقت میں یہ سمجھ لوں کہ میں بھی کچھ بن گیا ہوں اور اس طرح تجھ سے دور ہوجائوں۔اس لئے میں تجھ سے ہی پناہ مانگتاہوں کہ تُو اپنی بادشاہت کوکار فرما کر اور میری اصلاح کر اور جس طرح تُو چاہتا ہے کہ تیری رعایا کے ساتھ سلوک کیا جائے اسی قسم کے سلوک کی مجھے توفیق بخش تا میں مغرور ہو کر ظالم اورمتمرّد نہ بن جائوں۔پھر افسر اور بادشاہ کے تعلقات محدود ہوتے ہیں بہ نسبت خالق و مخلوق کے تعلقات کے۔خالق و مخلوق کے تعلقات غیر محدود ہوتے ہیں۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا پڑھنے والا اللہ تعالیٰ کے عباد میں شامل ہوجاتا ہے۔اس وقت دوسروں کی نسبت اس پر زیادہ فیض نازل ہونے لگتے ہیں اس وقت بسا اوقات وہ سمجھتا ہے کہ میں بہت بڑا انسان ہو گیاہوں۔