تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 454

تو اسلام سے نفرت پھیلاتے ہیں اور یا دہریت۔گویا اس طرح سے اپنے ملکوں میں بیٹھے دوسروں کو تباہ کرتے ہیں۔وَسْوَاسٌ کے ایک معنے صَوْتُ الْـحُلِیِّ کے بھی ہیں یعنی اس آواز کے جو زیوروں کی جھنکار سے پیدا ہوتی ہے۔اس لحاظ سے مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ کے یہ معنے ہیں کہ آخری زمانہ میں مغربی اقوام روپیہ کی لالچیں اور حِرص دِلا دِلا کر لوگوں کو گمراہ کریں گے اورپھر ساتھ ہی وہ خنّاس بھی ہوں گی یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ وہ کھلے بندوں دس ہزار روپیہ کسی کو اپنی ذاتی اغراض کے لئے دیں۔بلکہ وہ اس طرح دیں گی کہ روپیہ بھی دوسرے کو پہنچ جائے اور خود بھی چھپی بیٹھی رہیں۔ایسے حالات میں ہر مومن کو یہ دعا کرنی چاہیے کہ الٰہی تو مجھے ان کے فتنہ اور شر سے بچا۔پھر یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِالنَّاسِ۔مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ میں بتایاکہ یہ اقوام بعض دفعہ بڑے آدمیوں کے ذریعہ اور بعض دفعہ عوام الناس کے ذریعہ میرے دل میں روپیہ کی محبت پیدا کریں گی۔یا یہ اقوام اتنی دولت مند ہوں گی کہ اگر میں بڑا ہوجائوں تب بھی یہ مجھے لالچ دے سکیں گی اور اگر میں عوام میں شامل رہوں تب بھی مجھے لالچ دے سکیں گی۔ان آیات میں یہ پیشگوئی بھی ہے کہ آخری زمانہ میں جو فتنے برپاہوں گے ان میں آرگنائزیشن ہوگی یعنی ایک انتظام کے ماتحت یہ فساد ہوں گے۔لوگ فرداً فرداً اس میں حصہ نہیں لیں گے بلکہ دوسروں کو بھی اکسائیں گے اور اپنے ساتھ ملائیں گے جس کے دل میں کوئی خیال ہوگا وہ اکیلا اس کے مطابق کام نہیں کرے گا بلکہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ ملائے گا۔آقا کی ملازمت ایک نوکر خود نہیں چھوڑے گا بلکہ دوسروں کو بھی کہے گا کہ تم بھی چھوڑ دو۔اسی طرح آقا دوسرے آقائوں کو کہے گا کہ اگر میں کسی ملازم کو اپنے کارخانہ سے نکالوں تو تم بھی اسے ملازم نہ رکھنا۔آقا اپنی الگ مجلس بنائیں گے اور نوکر الگ۔اسی طرح حکمران لوگوں کی علیحدہ تنظیم ہوگی اور ماتحتوں کی الگ۔اورہر تنظیم دوسرے ملک کی تنظیم کے ساتھ تعلق رکھے گی۔اسی طرح مذہب کے خلاف جو فتنے ہوں گے وہاں بھی انجمنیں ہوں گی مثلاً یہ نہیں کہ کوئی دہریہ ہو تو اپنے آپ کو ظاہر نہ کرے۔بلکہ ان کی بھی انجمنیں ہوں گی اور وہ علی الاعلان کہیںگے کہ خدا کا غلط عقیدہ لوگوں کے دلوں سے مٹانا ہمارا کام ہے۔پہلے زمانہ میں دہریہ تھے۔مگر وہ اپنے خیالات کو الگ الگ ظاہر کرتے تھے کوئی ان کی انجمن نہ تھی۔نہ وہ اخباریں او رٹریکٹس شائع کرتے تھے۔مگر اس زمانہ میں دنیا کے تمام ممالک میں ان کی انجمنیں پائی جاتی