تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 445

آہستہ آہستہ نازل ہونے کے تو یہ معنے ہیں کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذباللہ من ذالک ) نئے اور بدلنے والے حالات کے مطابق اور نئی ضرورتوں کے پیش آنے پر ایک نیا کلام بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔چونکہ ان کے اعتراض کی بنیاد عقلی تھی اس سے یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ پہلے نبیوں پر کلام اکٹھا نازل ہو جاتا تھا اور فرض کرو کہ کفار مکہ ایسا کہتے بھی تھے تو کیا ان کے خیال کو ہم کوئی بھی اہمیت اور قیمت دے سکتے ہیں۔کیا وہ علوم آسمانی کے ماہر تھے یا مذہبی تاریخ کا علم ان کو حاصل تھا کہ ہم ان کے اعتراض کو تاریخ مذہب کے لئے کوئی قیمت دیں؟ اس غلطی کے پیدا ہونے کی ایک اور وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم میںحضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت آتا ہے کہ انہیں چالیس راتوں کے وعدہ میںالواح ملی تھیں(الاعراف:۱۴۳)۔مسلمان مفسرین چونکہ اسرائیلی کتب سے واقف نہ تھے انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ الواح اور تورات ایک شے ہیں۔حالانکہ الواح صرف دس احکام کا نام ہے اور تورات ان احکام سے سینکڑوں گنے زیادہ امور پر مشتمل ہے۔قرآن کریم میں کسی جگہ بھی یہ ذکر نہیں کہ طُور پر موسٰی کو مکمل تورات ملی تھی۔صرف الواح کا ذکر آتا ہے اور تورات بھی اسی کی مصدق ہے سو اوّل تو طُور پر جو کچھ نازل ہوا یک دم نازل نہیں ہوا چالیس راتوں میں نازل ہوا دوسرے وہاں جو کچھ نازل ہوا اس اندازہ کے مطابق وحی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کئی راتوں میں ہوئی ہے کئی کئی رکوع کا ٹکڑا آپ پر یک دم نازل ہو جایا کرتا تھا چنانچہ سورۂ یوسف کی نسبت آتا ہے کہ ساری سورۃ ایک ہی وقت میںنازل ہوئی تھی(فتح البیان زیر سورۃ یوسف)۔حضرت موسٰی پر جو کلام طُور پہاڑ پر چالیس دن میںنازل ہوا اس سے تو سورۂ یوسف یقیناً بڑی ہے۔حضرت موسٰی کی وحی کے علاوہ دوسرے نبیوں کی وحی کی نسبت تو کوئی قوی یا ضعیف روایت بھی نہیں جس سے معلوم ہو کہ پہلے نبیوں پر کلام الٰہی یک دم نازل ہو جاتا تھا اور اگر ایسا لکھا بھی ہوتا تو ہم اسے خلاف عقل کہہ کر رد کر دیتے کیونکہ کلام الٰہی تو نبی اور خدا کے تعلق کو روشن کرتا رہتا ہے۔کیا ہم خیال کر سکتے ہیں کہ کسی نبی پر ایک رات میں سب کلام نازل کر کے خدا تعالیٰ خاموش ہو جائے گا کلام الٰہی تو الٰہی تعلق پر شہادت ہوتا ہے کیا اس شہادت کے پیدا ہو جانے سے نبی کی قلبی کیفیت اطمینان والی رہ سکتی ہے ؟ کیا وہ اس محجوب اور محبوب سے دور زندگی کو راحت سے گذار سکتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چند دن کے وحی کے وقفہ سے کیا حال ہوا تھا۔اگر ایک دن کلام کر کے خدا تعالیٰ دوسرے نبیوں سے بقیہ ساری عمر خاموش رہتا تو میں سمجھتا ہوں دشمن تو ان کو مارنے میں ناکام رہتے لیکن یہ خدائی فعل ان کو مارنے میںضرور کامیاب ہو جاتا۔خلاصہ یہ کہ قرآن کریم کی آیت اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ کا یا دوسری آیات جو اوپر لکھی گئی ہیںان کا ہرگز یہ