تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 446

اب ہم حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ الناس میں سارا نقشہ مغربی اقوام کا کھینچا گیا ہے اور یہی وہ حاسد قوم ہے جس کو مسلمانوں کی طاقت دیکھنا گوارا نہیں۔اور وہ چاہتی ہے کہ اسلام کا نام دنیا سے مٹ جائے۔پس اس قوم کے پیدا کردہ فتنوں سے بچنے کے لئے مسلمانوں کو دعا سکھائی گئی ہے اور دعا کے پہلے الفاظ یہ ہیں کہ میں ربّ النّاس کی پناہ چاہتاہوں۔صفتِ ربوبیت کے ماتحت تمام وہ چیزیں آتی ہیں جو انسانی ضروریات کہلاتی ہیں اور جن کو ملک کی اقتصادیات کے نام سے پکارا جاتا ہے۔گویا قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ میں یہ اشارہ ہے کہ جب مسلمانوں کا حاسد نکلے گاتو سب سے پہلے ان کی اقتصادیات کو تباہ کرے گا اور تجارت کو نقصان پہنچائے گا۔وہ پہلے فوجوں سے حملہ نہیں کرے گا بلکہ پہلا کام اس کا یہ ہوگا کہ تجارتی سامان لے کر اسلامی ممالک میں جائے گا۔وہاں بنک وغیرہ کھولے گا اور اقتصادیات پر قابض ہو جائے گا۔چنانچہ یوروپین اقوام ہر جگہ ابتداء میں اسی طرح پہنچی ہیں۔پہلے تجارت کا سامان لے کر گئے اور آہستہ آہستہ اقتصادیات پر قبضہ کر لیا۔سود پر روپیہ دیا اور اس طرح اسلامی حکومتوں کو کمزور کرتے رہے۔گویا اسلام نے جو ربوبیت کا نظام قائم کیا ہے۔اسے اس نے توڑدیا۔پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ کے الفاظ سکھائے اور بتایا کہ اگر ان کے شر سے بچنا چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا۔رَبِّ النَّاسِ کے بعد مَلِکِ النَّاسِ کے الفاظ سکھائے۔گویا اس میں یہ اشارہ کیا کہ مغربی اقوام کے اقتصادی فتنہ کے بعد ملوکیت کا فتنہ شروع ہوگا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اقوام پہلے تجارت کے ذریعہ سے ملکوں میں داخل ہوئیں اور پھر انہوں نے وہاں حکومتیں قائم کرلیں۔مصر، افریقہ، ہندوستان وغیرہ سب اسلامی سلطنتوں کو انہوں نے اسی طرح قبضہ میںکیا۔افریقہ میں پہلے پہل یہ لوگ کانچ کی چوڑیاں اور دانہ ہائے تسبیح لے کر گئے اور چونکہ یہ چمکدار چیزیں تھیں وہاں کے جاہل لوگ اسے قیمتی چیز سمجھ کر سونا اور ہیروں کے بدلے لیتے تھے اور آخر کار یہ لوگ وہاں قابض ہوگئے۔اور اسی طرح ہندوستان، ایران، عرب، ٹرکی وغیرہ مقامات پر بھی تجارتی کوٹھیاں قائم کر کے اپنا اثرو نفوذ قائم کیا اور پھر دوسرا قدم یہ تھا کہ اپنی بادشاہتیں قائم کرلیں۔اور اس طرح اسلام کے سیاسی تمدّن پر قابض ہوگئے۔مَلِکِ النَّاسِ کے بعد اِلٰہِ النَّاسِ کے الفاظ رکھے گئے ہیں اور اس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ جب مغربی اقوام مختلف ممالک میں بادشاہتیں قائم کرلیں گی۔توان کی طرف سے ایک اور فتنہ برپاہوگایعنی مذہبی پروپیگنڈا شروع کردیں گی۔اور اس طرح مسلمانوں کا ایمان متزلزل کردیں گی۔او رنیا فلسفہ او رنئی تعلیم پیش کر کے مذہب کو برباد کرنے کی کوشش کریں گی۔کالجوں وغیرہ میں تعلیم کے ذریعہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد کو کھوکھلا کردیں گی اور اس قسم کا لٹریچر شائع کریں گی جس سے مذہب اسلام ایک غیر معقول مذہب نظر آئے اور لوگ اس سے متنفر ہوں۔پس فرمایا اے مسلمانو !جب تمہیںان حالات سے دوچار ہونا پڑے تو تم اس خدا کی پناہ چاہو۔جو رَبّ۔مَلِک اور اِلٰہ ہے یعنی یہ دعاکرو کہ اے خدا صحیح ربوبیت، صحیح ملوکیت اور صحیح الوہیت جس کو تُو دنیا میں رائج کرنا چاہتا