تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 444

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں ) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور ) باربار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں ) قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ۰۰۲ (ہم ہر زمانہ کے مسلمان سے کہتے ہیں کہ ) تُو (دوسرے لوگوں سے ) کہتا چلاجا کہ میں تمام انسانوں کے رب سے (اس کی پناہ ) طلب کرتا ہوں۔مَلِكِ النَّاسِۙ۰۰۳ (وہ رب جو) تمام انسانوں کا بادشاہ (بھی) ہے۔اِلٰهِ النَّاسِۙ۰۰۴ (اور ) تمام انسانوں کا معبود (بھی ) ہے۔تفسیر۔سورۂ لہب کی تفسیر میں بتایا جا چکا ہے کہ اس میں ایک ایسی قوم کے خروج کا ذکر ہے جس نے آخری زمانہ میں اسلام پر حملہ کرنا تھا اور یہ کوشش کرنی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین ختم ہوجائے۔سورۃ الفلق کی آخری آیت وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ میں بھی اسی قوم کے حملوں سے بچنے کی دعا اُمتِ محمدیہ کو سکھائی گئی تھی۔اور بتایا تھا کہ آخری زمانہ میں ایک طاقتور حاسد پیدا ہوگا جو اس بات کا متمنی ہوگا کہ نہ صرف یہ کہ وہ اسلامی حکومتوں کو ختم کر کے اسلامی ممالک پر قبضہ کر لے۔بلکہ اس کی یہ خواہش بھی ہوگی کہ اسلام کا نام لینے والا اس دنیا میں کوئی باقی نہ رہے۔چونکہ اس قوم کو مادی طور پر ہر قسم کی طاقتیں حاصل ہونی تھیں اور مسلمان بوجہ ضعف وکمزوری کے اس قوم کا مقابلہ کرنے سے عاجز رہنے تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دعا سکھائی کہ اس خطرناک فتنہ سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو تا وہ ایسے اسباب پیدا کردے کہ اسلام نہ صرف اس دشمن کے حملوں سے محفوظ رہے بلکہ ضعف کے بعد اس پر پھر اس کی شان و شوکت کے دن آجائیں۔سورۃ الناس کے ابتدا میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کے ذریعہ سے پناہ مانگو۔چنانچہ فرمایا قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔مَلِکِ النَّاسِ۔اِلٰہِ النَّاسِ یعنی یہ کہو کہ اے خدا جو رب ہے لوگوں کا ہم تیری پناہ مانگتے ہیں۔اے