تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 427

اور یہ کہ مسلمانوں کو ہر قسم کی نعمتیں حاصل ہوں گی اور پھر مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ انہیں ایک طرف تو یہ دعا کرنی چاہیے کہ یہ موعود غلبہ ان کو جلد حاصل ہوجائے اور دوسری طرف انہیں اللہ تعالیٰ سے اس بات سے پناہ طلب کرنی چاہیے۔ایسانہ ہو کہ وہ ان خرابیوں میں مبتلا ہوجائیں جن میں عام طور پر حکمران اقوام مبتلاہوجاتی ہیں اور یہ کہ ان کو مال کی فراوانی تعیّش میں مبتلا نہ کردے یا وہ جاہ وحشمت کے لئے آپس میں لڑنا بھڑنا نہ شروع کردیں۔ان آیات کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ یعنی میں غاسق کے شر سے پناہ مانگتاہوں جب کہ وہ وقوب اختیا ر کرلیتا ہے۔جیسا کہ حلّ لغات میں بتایا جا چکا ہے غَاسِق کے معنے رات کے ہیں اور وَقَبَ کے معنے اندھیرے اور ظلمت کے چھا جانے کے ہیں۔اسی طرح غَاسِق کے معنے سورج کے ہیں اور وَقَبَ کے معنے غائب ہونے کے ہیں۔پس ان معنوں کے اعتبا ر سے وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کا مفہوم یہ بنے گا کہ میں اس وقت کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جبکہ سورج غروب ہوجائے اور سخت تاریکی چھا جائے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورۃ احزاب میں فرماتا ہے۔يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا۔( الاحزاب:۴۶،۴۷) اے نبی ہم نے تجھے لوگوں کے لئے نمونہ او رایمان لانے والوں کے لئے ترقیات کی خوشخبری دینے والا اور منکرین کے لئے عذاب کی خبر دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔نیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی طرف لوگوں کو بلانے والا اور دنیا کو روشن کردینے والا سورج بنایا ہے۔ان آیات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چمکنے والا سورج قرار دیاگیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور دنیاکو منور کرے گا۔پس سورۃ الفلق میں قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کے الفاظ کہہ کر یہ اشارہ فرمایا کہ اے محمد رسول اللہ! یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم ساری دنیا میں پھیل جائے اور آپ وسط آسمان میں سورج کی طرح چمک کر ساری دنیا کو منور کر دیں۔پھر اس کے بعد وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کہہ کر یہ ہدایت کی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ سے التجا کرنی چاہیے کہ اس کے بعد کوئی ایسا وقت نہ آجائے کہ آپ کا روشن چہرہ دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہو جائے اور لوگ آپ کی روشنی سے محروم ہوجائیں اور دنیا پر تاریکی چھا جائے۔اسی طرح اُمتِ مسلمہ کے ہر فرد کو حکم دیا کہ وہ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ جو کمال انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے دینے والا ہے اور جو روحانی اور جسمانی ترقیات مسلمانوں کو دی جانے والی ہیں ان کے بعد ان پر زوال نہ آجائے اور ایسانہ ہو کہ وہ کسی وقت قرآنی تعلیم پر عمل کرنا چھوڑ دیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی اور قرآن کریم کے نور سے محروم ہوجائیں۔اور ان پر تاریکی چھاجائے اور اسی طرح مادی ترقیات ملنے کے بعد کوئی