تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 426

اَلْغَاسِقُ کے معنے ہیں اَلْقَمَرُ وَاللَّیْلُ اِذَا غَابَ الشَّفَقُ وَاشْتَدَّتْ ظُلْمَتُہٗ یعنی غَاسِقُ کے معنے چاند کے ہیں اور رات کے بھی۔جب اس کی تاریکی زیادہ ہوجائے۔قِیْلَ اَیِ اللَّیْلُ اِذَا دَخَلَ۔اسی طرح کہا گیا ہے کہ غَاسِق کے معنے رات کے ہیں جب وہ تاریکی پھیلا دیتی ہے اَوِالثُّرَیَّا اِذَا اَسْقَطَتْ لِکَثْرَۃِ الطَّوَّاعِیْنِ وَالْاَسْقَامِ عِندَ سُقُوْطِھَا۔بعض کہتے ہیں کہ غَاسِقٌ کے معنے ثریا ستارے کے ہیں جبکہ وہ اپنی اصلی جگہ سے ہٹ جائے اور اس کے نتیجہ میں مختلف قسم کی امراض پیدا ہوں۔(اقرب) مفردات میں غَسَقُ الَّیْلِ۔شِدَّۃُ ظُلْمَتِہٖ۔یعنی غَسَقُ الَّیْل کے معنے ہوتے ہیں رات کی تاریکی۔قَالَ مِنْ شَـرِّ غَاسِقٍ۔۔۔۔۔ذٰلِکَ عِبَارَۃٌ عَنِ النَّائِبَۃِ بِالَّیْلِ کَالطَّارِقِ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ کے الفاظ فرمائے ہیں ان میں غَاسِقٍ سے مراد وہ مصیبت یا حادثہ ہے جو رات کو آئے۔وَقِیْلَ اَلْقَمَرُ اِذَا کَسَفَ۔بعض لوگوں نے کہا ہے کہ چاند کو بھی غاسق کہیں گے جبکہ اس کی روشنی جاتی رہے اور اس کو گرہن لگ جائے۔وَقَبَ۔وَقَبَ: وَقَبَتِ الشَّمْسُ وَغَیْرُھَا کے معنے ہوتے ہیں غَابَتْ سورج غائب ہوگیا۔اور جب وَقَبَ الرَّجُلُ وَقْبًا کہیں تو معنے ہوں گے دَخَلَ فِی الْوَقْبِ یعنی فلاں شخص اندھیرے میں داخل ہوگیا۔وَغَارَتْ عَیْنَاہُ اور وَقَبَ الرَّجُلُ کے یہ بھی معنے ہیں کہ اس کی آنکھیں اندر دھنس گئیں۔اور وَقَبَ الظَّلَّامُ عَلَی النَّاسِ کے معنے ہوتے ہیں دَخَلَ وَانْتَشَـرَ کہ لوگوں پر اندھیرا چھا گیا۔اور جب وَقَبَ الْقَمَرُ کہیں تو اس کے معنے ہوں گے۔دَخَلَ فِی الْکُسُوفِ کہ چاند کسوف میں داخل ہوگیا۔نیز اَلْوَقْبُ کے معنے ہیں نُقْرَۃٌ فِی الصَّخْرَۃِ یَـجْتَمِعُ فِیْـھَا الْمَآءُ۔چٹان کا وہ گڑھا جس میں پانی جمع ہوتا ہے۔اَلْکُوَّۃُ الْعَظِیْمَۃُ فِیْـھَا ظِلٌّ۔وہ بڑا گڑھا جس میں سایہ ہوتا ہے۔(اقرب) پس وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کے معنے ہوں گے (۱) میں پناہ چاہتاہوں رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ اندھیرا چھا جائے۔(۲) میں پناہ چاہتا ہوں اس وقت کے شر سے جب سورج غرو ب ہوجائے۔(۳) میں پناہ چاہتا ہوں اس وقت کے شر سے جب چاند اور سورج کو گرہن لگے۔(۴) میں پناہ چاہتاہوں اس وقت کے شر سے جب کہ فراخی کے بعد تنگی ہوجائے۔(۵) میں ان حوادث سے پناہ چاہتا ہوں جو رات کے وقت آئیں۔(۶) میں اس وقت کے شر سے پناہ چاہتاہوں جب کہ انسان گڑھے میں داخل ہو جائے۔تفسیر۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کی تفسیر کرتے ہوئے یہ بتایا جا چکا ہے کہ ان آیات میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اسلام کا وہ غلبہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شروع ہوا وہ مکمل ہوکررہے گا