تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 425
لحاظ سے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ کہو میں انہار یعنی دریائوں کے پیدا کرنے والے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔اس بات سے کہ ان کے ذریعہ سے مجھے یا میری قوم کو کوئی شر نہ پہنچ جائے۔یہ ظاہر ہے کہ دریائوں کے ذریعہ سے مُلک سیرا ب ہوتے ہیں اور ان پر مُلکوں کی خوراک کا انحصار ہوتا ہے۔اگر صحیح رنگ میں ان سے پانی ملتا رہے۔دریائوں سے نہریں نکالی جائیں اور ان نہروں سے زمینوں کو سیراب کیا جائے تو وہ مُلک کے لئے مفید ہوتے ہیں۔لیکن اگر دریائوں میں طغیانی آجائے تو نہ صرف یہ کہ فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔بلکہ لوگ بھی ڈوب کر مر جاتے ہیں۔پس دریا ایک مفید چیز ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے لیکن جب اس کا مضر پہلو ظاہر ہوتا ہے تو وہ زندگی بخش ہونے کی بجائے زندگی ختم کرنے کا ذریعہ ہوجاتا ہے۔درحقیقت ہر چیز کا یہی حال ہے۔اس کا فائدہ بھی ہے نقصان بھی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کو دعا کرتے رہنا چاہیے کہ جو کچھ جسمانی اور روحانی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہ ان کے لئے فائدہ بخش ہو اور اس کے مضرات سے اللہ تعالیٰ خود ہی بچاتا رہے اور ایسا نہ ہو کہ دین کے علوم کی فراوانی جو ان کو حاصل ہوئی ہے وہ انہیں مغرور بنادے اور دوسرے بنی نوع انسان کو ذلیل سمجھنے لگ جائیں اور وہ چیز جو خدا تعالیٰ کے طفیل ان کوملی ہے وہ اسے ذاتی قابلیت کا نتیجہ نہ سمجھنے لگ جائیں۔وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ۰۰۴ اور اندھیرا کرنے والے کی ہر شرارت سے (بچنے کے لئے ) جب وہ اندھیرا کر دیتا ہے۔حلّ لُغات۔غَاسِقٌ۔غَاسِقٌ غَسَقَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور غَسَقَتْ عَیْنُہٗ غُسُوْقًا کے معنے ہیں دَمَعَتْ وَقِیْلَ اِنْصَبَّتْ وَقِیْلَ اَظْلَمَتْ۔آنکھ آنسوئوں سے ڈبڈبا آئی۔اور بعض نے یہ کہا ہے کہ جب آنسو آنکھ سے ٹپک پڑیں اور آنکھ کے سامنے اندھیرا ہوجائے تو اس وقت غَسَقَتْ عَیْنُہٗ کا فقرہ بولتے ہیں اور جب غَسَقَتِ السَّمَآءُ غَسْقًا کہیں تو معنے ہوں گے اِنصَبَّتْ وَاَرَشَّتْ یعنی بادلوں نے موسلادھار پانی برسایا اور غَسَقَ اللَّبَنُ کے معنے ہیں۔اِنْصَبَّ مِنَ الضَّـرْعِ دودھ زیادتی کی وجہ سے پستان سے ٹپک پڑا اور غَسَقَ الْـجُرْحُ کے معنے ہوتے ہیں سَالَ مِنْہُ شَیْءٌ اَصْفَرُ کہ زخم سے زرد رنگ کی پیپ بہہ پڑی اور جب غَسَقَ اللَّیْلُ غَسْقًا کہیں تو مراد ہوگی کہ اِشْتَدَّتْ ظُلْمَتُہٗ۔رات کی تاریکی سخت ہوگئی۔(اقرب)