تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 424

اسی طرح فردی لحاظ سے یہ دعا سکھائی کہ تمہیں دعا کرنی چاہیے کہ تم دانستہ یا نادانستہ کوئی ایسی بات نہ کر بیٹھو جس سے تمہیں قیدو بند کی مشکلات سے دوچار ہونا پڑے۔پس ان مشکلات سے وہی خدا بچا سکتا ہے جو ہر ایک کے قلب پر حکومت کرتا ہے اور جو حقیقی حکمران ہے تاکہ اگر بالفرض ایسا وقت آبھی جائے تو اللہ تعالیٰ قید خانوں کے مالکوں کے دلوں کو بدل دے اور وہ سختی کی بجائے نرمی سے پیش آئیں۔(۶) الفلق کے چھٹے معنے اس دودھ کے ہیں جو دودھ پینے کے بعد پیالے کے آخر میں تھوڑا سا بچ جاتا ہے۔ان معنے کے اعتبار سے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کا یہ مفہوم ہوگاکہ اے خدا تُو نے مجھے وہ کامل تعلیم قرآن کریم کے ذریعہ سے دی ہے جو اس پیالہ کی مانند ہے جو دودھ سے بھرا ہواہو۔ایسا نہ ہو کہ کسی وقت میری کمزوریوں کی وجہ سے میرے پاس اس تعلیم میں سے تھوڑا ساحصہ رہ جائے اور روحانی طور پر امیر ہونے کے بعد میں غریب ہوجائوں۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معراج کی رات کو دودھ، پانی اور خمر پیش کئے گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کو لے لیا تب جبریل نے کہا کہ یارسول اللہ ! اگر آپ پانی اور خمر کو لے لیتے تو آپ کی اُمّت تباہ ہوجاتی۔آپ نے دودھ کو لے کر فطرتِ صحیحہ کے مطابق کام کیا ہے(بخاری کتاب التفسیر بَابُ قَوْلِهِ أَسْـرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا) پس دودھ سے مراد قرآنی تعلیم ہے جو فطرتِ صحیحہ کے مطابق ہے۔پس قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں بتایا کہ مسلمانوں کو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو قرآنی تعلیم پر پوری طرح عمل کرنے کی توفیق دے اوروہ اس تعلیم کی حفاظت کرتے رہیں اور ایسا نہ ہو کہ کسی وقت اس پر عمل کو چھوڑ کر اس شخص کی طرح ہو جائیں جس کے پاس تھوڑا سا دودھ رہ جاتا ہے۔دنیا میں جب کوئی شخص امیر ہونے کے بعد پھر غریب ہوتا ہے تو اسے بہت تکلیف ہوتی ہے اور اس کی زندگی اس کے لئے دوبھر ہو جاتی ہے۔پس انفرادی لحاظ سے بھی اس میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ ایسا نہ ہو وہ نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں اور جن کے ذریعہ سے وہ آرام و اطمینان کی زندگی بسر کر رہا ہے وہ نعمتیں ہاتھ سے جاتی رہیں اور اس کی زندگی کے دن مشکل سے کٹیں۔پھر اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ایسا نہ ہو اسلام کے غلبہ کی وجہ سے جو مسلمانوں کو رفاہیت حاصل ہے وہ کسی وقت مسلمانوں کی حکومت کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے تکلیف میں بدل جائے اور مسلمان کڑھتے رہیں۔بلکہ اگر کوئی ایسا وقت آئے تو اللہ تعالیٰ خود دستگیری کرے اور پھر سے سامان پیدا کر دے کہ مسلمانوں کی کمزوری طاقت سے اور ضعف کے دن شوکت سے بدل جائیں۔(۷) ساتویں معنے الفلق کے اَلْاَنْـھَارُ کے بھی ہیں۔اور ربّ الفلق کے معنے ہوں گے دریائوں کارب۔اس