تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 419
دے دو اور سب لوگوں کے سامنے دنیا سے بے پرواہ ہوکر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی پناہ میں دے دینے کا اعلان کردو۔تا جب تمہارا عمل اس دعویٰ کے خلاف ہو تو ہر شخص یہ سمجھ سکے کہ یہ جھوٹا ہے۔منہ سے تو کچھ کہتا ہے مگر عمل کچھ اور ہے۔اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کی آیت میں قُلْ کہنے کا مطلب ہی یہی ہے کہ اپنے اس دعویٰ پر ساری دنیا کو گواہ بنالو۔انسان خدا تعالیٰ کے حضور جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اے خدا میں نے تمام رشتوں سے قطع تعلق کر لیا اور اپنے ہاتھ پائوں باندھ کر اپنے آپ کو تیرے حضور ڈال دیا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ اسے فرماتا ہے کہ یہ بات ہم کو آکر نہ کہو بلکہ جائو اور دنیا کے سامنے یہ بات بیان کرو اور اسے اس بات پر گواہ بنائو کہ تم خدا تعالیٰ کے سوا ہر چیز سے بے نیاز ہو۔تا جب تمہارا عمل تمہارے اس دعویٰ کے خلاف نظر آئے تو لوگ کہہ سکیں کہ تم بڑے جھوٹے اور مکا ر ہو۔منہ سے تو کچھ کہتے ہو مگر عمل کچھ ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں قُلْ کا لفظ رکھ کر بتادیا کہ اب تم سارا قرآن کریم پڑھ چکے اب تمہارے دل کا ایمان پختگی حاصل کر چکا ہے اب اسے مخفی نہیں رکھا جاسکتا جو بات تم ہمارے سامنے آکر کہتے ہو اسے یا تو کھلے میدان میں ظاہر کرو۔لوگوں کو اس پر گواہ بلکہ قاضی اور جج بنائو۔تاجب تمہارا عمل اس کے خلاف ہو تو وہ ملامت کر سکیں۔اور یاپھر اس دعویٰ کو ترک کردو۔ہم تمہارے اس دعویٰ کو نہیں مانتے جو تم علیحدگی میں ہمارے حضور کرتے ہو اور نماز پڑھتے وقت کہتے ہو کہ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اے میرے رب میں تیری پناہ میں آتاہوں۔تمہارے اس دعویٰ کے معنے تویہ ہیں کہ تمام مخلوق سے تمہارا رشتہ ٹوٹ چکا اور خدا تعالیٰ کے ساتھ قائم ہوگیا۔اب تمہارا بھروسہ ماں باپ، بھائی بہن، دوست احباب، رشتہ داروں، قوم و حکومت پر نہ ہوگا۔ان سب کے تعلق ٹوٹ کر اب خدا تعالیٰ کے ساتھ قائم ہو گیا اور یہ ایک ایسادعویٰ ہے جس کی حقیقت تم پر اس وقت تک واضح نہیں ہوسکتی جب تک کہ تم لوگوںکو اس پر گواہ نہ بنالو اور جو انسان اس مقام پر کھڑا ہو وہ کس طرح اطمینان کا سانس لے سکتا ہے جب تک وہ اپنے عمل سے اس دعویٰ کی تصدیق نہ کردے۔بعض لوگ میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں کام کے لئے دعا کریں اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ اگر ہوسکے تو فلاں شخص سے سفارش بھی کرا دیں۔حالانکہ دعا کے ساتھ ہی سفارشی خط چاہنا توکّل کے خلاف ہوتا ہے۔بلکہ مومن کے لئے تو یہ شرم سے زمین میں گڑ جانے کا مقام ہے کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے رشتہ جوڑ لیتا ہے تو اسے نہ بادشاہوں پر بھروسہ کرنا چاہیے اور نہ کسی پارلیمنٹ پر اور نہ کسی فوج یا حکومت پر اور نہ ملک کے مدبّروں پر۔مومن تو دنیا کے سامنے یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ میرا ہاتھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور یہ دعویٰ کرنے کے بعد اگر وہ کسی کے پاس جاتا اور اس سے باصرار کہتا ہے کہ میرا فلاں کام کردو۔(بغیر توکّل اور اصرار کے اس خیال کی بنا پر کہ اللہ تعالیٰ