تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 418
اور تم بھروسہ رکھتے ہو اپنے ملک کی فوجوں پر اور اپنے ملک کے استادوں پر جو لوگوں کو جہالت سے بچاتے ہیں اور ملک کے ڈاکٹروں پر جو اہل ملک کی صحت کی ترقی میں مدد دیتے ہیں اور ملک کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔غرضیکہ تم لوگ ان چیزوں پر بھروسہ رکھتے ہو۔مگر میرا ان میں سے کسی پر بھروسہ نہیں۔بلکہ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔ان کی طرف سے توجہ ہٹاکر میں نے ربّ الفلق کے ساتھ لَو لگا لی ہے اور اسی پر میرا بھروسہ ہے۔گو اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ چھوٹا سا فقرہ ہے لیکن اس کو کہنے والا گویا ساری دنیا کو چیلنج دیتا ہے اور ایک ایسا دعویٰ کرتا ہے جس کے بعد دنیا کا ہر فرد اس کے اعمال کا نگران بن جاتاہے۔وہ ایک مجلس میں جاتا ہے اور کہتا ہے مجھے پرواہ نہیں حکومت کی، ماں باپ کی، بھائی بہنوں کی، دوستوں رشتہ داروں کی۔پھر وہ دوسری مجلس میں جاتا ہے اور یہی کہتا ہے کیونکہ اس کو قُلْ کے لفظ میں یہی حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہر مجلس میں جائے اور یہ اعلان کر دے کہ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میںنے ربّ الفلق یعنی مخلوقات کے پیداکرنے والے کی پناہ میں اپنے آپ کو دے دیا ہے اور اسی لئے اب دنیوی اسباب پر میرا بھروسہ نہیں ہے۔پھروہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت تیسری مجلس میںجاتاہے اور یہی کہتا ہے اور اس کے بعد چوتھی مجلس میں جاتا ہے اور یہی کہتا ہے اور اس طرح ہر شخص اس کے اعمال کا نگران بن جاتا ہے اور پھر جب اتنا بڑا دعویٰ کرنے کے بعد وہ اگر کسی تحصیلدار، تھانیدار یا کسی اور کے سامنے جاتااور اسے سلام کرتاہے اور اس سے اپنی مشکلات کے دور کرنے میں مدد مانگتا ہے توان لوگوں میں سے جن کے سامنے اس نے اپنے آپ کو ربّ الفلق کی پناہ میں دے دینے اور دنیوی رشتوں سے قطع تعلق کا اعلان کیا تھا۔ہرایک اسے شرمندہ کرے گا کہ تُو نے دعویٰ تو بہت بڑا کیا تھا مگر عمل کے وقت اپنے دعویٰ کو سچا کر کے نہ دکھا سکا۔تو اللہ تعالیٰ نے اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ سے پہلے قُلْ کا لفظ لاکر ہر مسلمان کو گویا یہ ہدایت دی ہے کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی صحیح توحیدکا علم حاصل کرچکے ہو تو ہرمجلس میں جاکر یہ اعلان کرو۔تا ہر شخص تمہارا نگران بن جائے اور جب بھی دیکھے کہ تمہارا عمل اس کے خلاف ہے تووہ تم کو شرمندہ کر سکے ایک شخص منہ سے تو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو ربّ الفلق کی پناہ میں دے دیا۔مگر جب اس کے گھر میں بیماری آتی ہے وہ خود یا اس کے بیوی بچے بیمار ہوجاتے ہیں تووہ گھبرا کر رونے لگ جاتا ہے۔جب اس پر قرضہ ہوجائے تووہ گھبرا کر رونے لگتا ہے افسر ناراض ہوجائیںتو گھبراکر رونے لگتاہے۔استاد بگڑ جائے تو گھبرا کر رونے لگتا ہے اس پر ہر شخص اسے جھوٹا کر سکتا ہے کہ تم تو خدا تعالیٰ کی توحید پر قائم ہو نے کے دعویٰ دار تھے تم نے تو دعویٰ کیا تھا کہ سوائے خدا تعالیٰ کے مجھے کسی کی پرواہ نہیں پھر یہ کیا ہے کہ دنیا کی ہر مصیبت سے تم ڈر رہے ہو۔پس سورۃ فلق کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مومن سے یہی کہا ہے کہ اگر تمہارے اندر واقعی ایمان پیداہوچکا ہے تو ساری دنیا کو چیلنج