تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 420

نے سامانوں سے کام لینے کا حکم دیا ہے اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے جس پر اس کا حق ہے مدد چاہے تو یہ گناہ نہیں۔گناہ یہ ہے کہ وہ سفارش پر توکّل کرے اور جب اس کی خواہش پوری نہ ہو تو اسے صدمہ ہو اور وہ اصرار کرے کہ کسی طرح اس کو سفارشی چٹھی مل جائے ) تو اس سے زیادہ ذلیل کون ہو سکتا ہے۔قاضی ظہورالدین صاحب اکمل کے والد مولوی امام دین صاحب کو تصوّف سے بہت شغف تھا۔احمدی ہونے سے پہلے وہ صوفیاء کے مرید تھے۔اس لئے جب بھی انہیں موقعہ ملتا مجھ سے وہ یہ بات کہتے کہ فلاں صوفی صاحب کہتے تھے کہ انہوں نے عرش پر سجدہ کیا۔فلاں صوفی صاحب تھے جنہوں نے فلاں آسمان پر سجدہ کیا۔فلاں نے سجدہ میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔مگر احمدیت میں یہ بات نظر نہیں آتی۔میں اس کے متعلق ان کو کئی دلائل دیتا۔مگر سال چھ ماہ کے بعد پھر یہی سوال کردیتے کہ وہ چیز ابھی نہیں ملتی جو صوفیاء بتاتے چلے آئے ہیں۔ایک دن اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کا جواب سمجھایا۔میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وہ جو عرش پر سجدہ کرتے ہیں یا آسمان پر کرنے والے ہیں وہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے درجہ میں چھوٹے ہیں۔وہ کہنے لگے میں مانتا ہوں کہ احمدیت میں سب کچھ ہے مگر عرش پر سجدہ کرنا بھی تو بہت بڑی بات ہے۔میں نے کہا میں مانتا ہوں کہ وہ عرش پر سجدہ کرتے ہوں گے مگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے تعلق کا کوئی ظاہری ثبوت بھی تو ہونا چاہیے۔ایک انسان بھی اپنے ساتھ ادنیٰ جوڑیا تعلق رکھنے والے کو ذلیل نہیں کرتا۔میں نے ان سے کہا۔کیا آپ دیکھتے نہیں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام پر کتنا بار تھا ابتداء میں بیسیوں اور بعد میں سینکڑوں تک مہمان روزانہ لنگر سے کھانا کھاتے تھے اور مہمان نوازی کا خرچ پندرہ سَو سے اڑھائی ہزار روپیہ ماہوا رتک تھا۔مگر آپ کی کوئی آمد مقرر اور معیّن نہ تھی۔بے شک جماعت کے دوست چندہ دیتے تھے لیکن یہ کوئی مقرر اور معیّن آمد تو نہ تھی مگر دیکھئے باوجود اس قدر کثیر اخراجات کے اور آمد کی معیّن صورت نہ ہونے کے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو خدا تعالیٰ پر کیسا توکل تھا اور خدا تعالیٰ کس طرح آپ کی ضرورتوں کو پورا کرتا تھا۔کیا یہ عرش پر سجدہ کرنے والے لوگ بھی اس توکّل کے مقام پر تھے؟ مولوی صاحب اس بات کو سن کر کچھ سوچ میں پڑ گئے اور تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگے کہ آج میری سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ یہ عرش پر سجدہ دھوکہ ہی تھا۔یہ عرش پر سجدہ کرنے والے صاحب غلّہ نکلنے کے زمانہ میں زمینداروں سے کہا کرتے تھے کہ کچھ غلّہ ہمیں بھی بھجوانا۔میںنے ان سے کہا کہ بس دیکھ لیں کہ یہی فرق سچے متوکّل اور جھوٹے متوکّل میں ہوتا ہے۔بہر حال مومن خدا تعالیٰ پر توکّل کرنے والا ہوتا ہے اور جب وہ لوگوں کے سامنے کہتا ہے کہ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں رَبِّ الْفَلَقِ کی پناہ میں آتا ہوں تو پھر وہ بندوں کی طرف نگاہ نہیں کرسکتا۔بلکہ خدا تعالیٰ پر ہی یقین رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال ہمارے سامنے ہے آپ کو کیا