تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 416
بولنے والے لوگوں کے بچے چوری اور جھوٹ کی طرف راغب ہوتے ہیں۔مسلول باپ کا بچہ بھی مسلول ہوجاتا ہے پس یہ بات بالکل درست ہے کہ ورثہ میں خرابیاں اور کمزوریاں بھی ملتی ہیں اور خوبیاں بھی ملتی ہیں۔چنانچہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ جس خاندان میں علم دیر تک رہے اور اس کے افراد اہلِ علم ہوتے چلے آئیں اس کے بچے وراثتاً ایسے ہوتے ہیں کہ دوسروں کی نسبت جلدی علم حاصل کرلیتے ہیں اور یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جولوگ زیادہ پڑھنے والے ہوتے ہیں ان کی اولاد کی آنکھیں زیادہ لمبی ہوتی جاتی ہیں۔چنانچہ جن خاندانوں میں علم کا چرچاہوتاہے اور مطالعہ کرتے رہتے ہیں ان کی اولاد کی آنکھیں دوسروں کی نسبت لمبوتری ہوتی ہیں۔یہ ماں باپ کے پڑھنے کا اثر ہوتا ہے۔توماں باپ کی خوبیاں اور کمزوریاں اولاد میں آجاتی ہیں۔اور جب کسی بچہ میں ماں باپ کی کمزوریاں آجائیں تواس کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے کہ اس کے لئے دنیا کی دوڑ میں روکیں پیدا ہوجاتی ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ کہو اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔اے میرے پیداکرنے والے اور میری پرورش کرنے والے اب اگر مجھ میں ورثہ کے طور پریا کسی اور اثر سے کوئی کمزوری اور خَلقی نقص رہ گیا ہے تو اس کے اثر سے مجھے بچا۔تا میں تیری رضا حاصل کرسکوں اور تیرا قرب پا سکوں۔غرض اس حصۂ آیت میں ان کمزوریوں سے پناہ مانگی گئی ہے جو انسان میں پیدائشی طور پر آجاتی ہیں۔پھر قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسان تمام مخلوقات کا ایک حصہ ہے یعنی دنیا میں جس قدر جمادات، نباتات اورحیوانات ہیں ان سب کو ترکیب دے کر خدا تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہے اور اس کی جڑیں ان تینوں جگہوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔اور ان تینوں کاخلاصہ نکل کر انسان بنا ہے۔اگر انسان کو ان تینوں جگہوں سے خوراک نہ ملے تو وہ انسان نہیں رہتا مثلاً مٹی انگور نہیں ہوتی لیکن انگور مٹی سے پیدا ہوتا ہے۔اگرتم انگور کی جڑیں مٹی سے نکال لو تو انگور باقی نہیں رہے گا۔کیونکہ اس کی ترقی کا ذریعہ یہ ہے کہ مٹی بھی ہو اور انگور کی بیل بھی۔اگر مٹی نہ ہو تو انگور کی حیثیت باقی نہیں رہتی اور اگر مٹی ہی ہو اور انگور نہ ہوتو مٹی کی کوئی قدروقیمت نہیں۔اسی طرح اگر نباتات، جمادات اور حیوانات کے نتیجہ میں انسان پیدا نہ ہوتا اور اگرخالی اسی حد تک یہ چیزیں رہتیں تو یہ سب فضول اور لغو ہوتیں۔جیسے مٹی فضول اور لغو ہے بغیر خربوزہ کے بغیر آم اور انگور کے۔پس وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انسانوں کو روحانی امور کی طرف تو لے جاتے ہیں مگر طیّبات سے پرہیز کرا کر اور ان کی ان ضروریات سے علیحدہ کرواکر جو خدا تعالیٰ نے انسان کے ساتھ لگائی ہیں۔وہ اس امر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ طیّبات وہ زمین ہے جس میں روحانیت کا پودا اُگاکرتا ہے اور اسی زمین میںنشو ونما پاکر یہ پودا روحانیت کے میوے لاتا ہے۔یہی چیز ہے جسے