تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 417

اسلام پیش کرتا ہے اسلام کہتا ہے کہ نباتات، جمادات اور حیوانات کے ملانے سے جو خلاصہ پیدا کیا گیا ہے اس کے پھل کا نام انسان ہے۔جب تک یہ نہ ہو انسانیت کا پودا پنپ نہیں سکتا۔اور جب تک یہ خیال نہ رکھا جائے کہ انسانیت کی جڑیں جمادات، نباتات اور حیوانات سب میں ہیں اس وقت تک یہ پودا سرسبز نہیں رہ سکتا۔سورۃ فلق کی آیات قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں ہمیں اسی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان مخلوقات کا ایک جزو ہے۔وہ جمادات، نباتات، حیوانات سے علیحدہ نہیں ہے۔اگر ہم ان چیزوں سے علیحدہ ہوتے تو ہمیںیہ حکم نہ دیا جاتا کہ ہم ان چیزوں کے شر سے پناہ مانگیں۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ ان چیزوں کی برائی ہم تک پہنچ سکتی ہے اس لئے ہمیں ان کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے ہر وقت دعا کرنی چاہیے۔غرض ہمیں یہ بتایا گیا کہ تمام جمادات سے ہمیں شر بھی پہنچ سکتا ہے اور خیر بھی۔تمام نباتات سے ہمیں شر بھی پہنچ سکتا ہے اور خیر بھی۔اور تمام حیوانات سے ہمیں شر بھی پہنچ سکتا ہے اور خیر بھی۔اور ہماری جڑیں ان تینوں کرّوں میں دبی ہوئی ہیں۔ان حالات میں ہمیں دعا سکھائی کہ اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی جماداتی، نباتاتی اور حیوانی ہستی کا خیال رکھنا چاہیے۔جب تک جڑوں کوپانی نہ دیا جائے اس وقت تک درخت سرسبز نہیں رہ سکتا۔اسی طرح انسان کی روحانیت اعلیٰ درجہ تک نہیں پہنچ سکتی جب تک وہ جمادات، نباتات اور حیوانا ت میں سے طیّب اشیاء کو استعمال نہیں کرتا۔اور ان کے شر سے بچتا نہیں ہے۔اسی طرح درخت میں بعض امراض اس کی جڑوں سے پیداہوتی ہیں اور بعض پتوں سے۔سورۃ فلق کی ان آیات میں ہمیں ان امراض سے بچنے کا علاج بتایا ہے جو ہمیں جڑ سے پہنچ سکتی ہیں۔پس فرمایا تمہیں دعا کرنی چاہیے کہ وہ خدا جس نے تمام مخلوقات پیدا کی ہے ہم اس کی پناہ میں آتے ہیں۔تاکہ ہمیں تمام مخلوقات کی خیر تو ملتی رہے لیکن ان کا شر ہم تک نہ پہنچ سکے۔کیونکہ ان چیزوں کا خالق ہی اگر چاہے تو ایسا ہو سکتا ہے وگرنہ نہیں۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں ایک اور اہم امر کی طرف بھی اُمّتِ مسلمہ کے ہر فرد کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے اور وہ یہ کہ سورۃ الفلق سے پہلی سورۃ یعنی سورۃ الاخلاص میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو توحید کامل کا سبق دیا تھا۔اس سورۃ کے بعد قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ اے وہ شخص جو ایمان لایا ہے ہماری ذات پر، ہمارے کلام پر اور اس میں سے بھی ہمارے قرآن پر۔ہم اسے کہتے ہیں کہ جائو اور جاکر لوگوں میں اپنے اس ایمان کا اعلان کرو اور کہو اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔تم لوگ دنیا میں بھروسہ کرتے ہو اپنے ماں باپ پر۔تم لوگ بھروسہ رکھتے ہو اپنے رشتہ داروں او ردوستوں پر۔تم لوگ بھروسہ رکھتے ہو اپنے خاندانوں پر اور جتھوں پر۔تم لوگ بھروسہ رکھتے ہو اپنے محلّہ کے لوگوں پر اور محلّہ کے چوہدریوں پر۔تم بھروسہ رکھتے ہو اپنی حکومتوں پر۔