تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 415

کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ ایسے ہیں جیسے گدھے پر کتابیں لادی جائیں۔اس کے مقابلہ میں شیطان کتنی بری چیز ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرا شیطان مسلمان ہوگیا ہے اور وہ مجھے نیکی کی بات ہی کہتا ہے اس کے بھی یہی معنے ہیں کہ شیطان جو بات آپ کے دل میں ڈالنا چاہتاوہ آپ کے لئے اچھی بات بن کر آپ کے قلب میں داخل ہوتی۔پس قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی حفاظت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور بتایاگیاہے کہ اگر مخلوقات کے برے پہلو سے تم بچنا چاہو تو صرف اللہ تعالیٰ ہی تمہیں بچا سکتا ہے۔کیونکہ وہ تمام مخلوقات کا رب ہے اور جانتا ہے کہ کس طرح ہر شر سے بھی خیر پیدا ہوسکتا ہے اور مخلوقات میں سے کوئی شے اس کے اذن کے بغیر حرکت نہیں کرسکتی۔پھر مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کے الفاظ سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اے مخلوقات کے پیدا کرنے والے خدا میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔پیدائش کے ان نقائص سے جو کسی چیز کے پیدا ہوتے وقت اس میں رہ جاتے ہیں اور اس چیز کی ترقی اور کمال کے حاصل کرنے میں روک بن جاتے ہیں۔چنانچہ دنیا میںجب بھی خرابی ہو گی تین وجہ سے ہوگی۔(۱) پیدائش میں نقص کی وجہ سے۔(۲) انتہا خراب ہونے کی وجہ سے۔(۳) یا زندگی کے درمیانی حالات کے خراب ہونے کی وجہ سے۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میںپیدائش میں نقص رہ جانے کی وجہ سے جو خرابی انسان کو لاحق ہو سکتی ہے اس سے پناہ سکھائی گئی ہے۔کیونکہ پیدائش میں نقص یا خرابی ہو تو تباہی آجائے گی اور مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔مثلاً قلم ہے۔انسان نے بنایا مگر اچھا نہ بنا۔خراب بنا۔تو اس سے کوئی اچھا نہیں لکھ سکے گا۔اسی طرح ایک مکان بنایا جو ٹپکتا ہے تو اس میں کوئی آرام سے نہیں بیٹھ سکتا۔یاکپڑ اپہننے کے لئے بنایا۔سرد کی ضرورت تھی گرم بنالیا یا گرم کی ضرورت تھی سرد بنالیا وہ مفید نہیں ہو سکتا۔یا کسی نے گھوڑا خریدا جو لنگڑا ہے وہ سفر طے نہیں کرسکتا تو جس چیز میں کوئی ابتدائی نقص ہو وہ اس مقصد کو پور انہیں کرسکتی جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے کہ کہو میری پیدائش میں جو نقص رہ گیا ہے اس سے پناہ مانگتاہوں۔انسان جب پیدا ہوتا ہے تو ماں باپ کی بداعمالیوں اور برائیوں سے بھی ورثہ پاتا ہے جس قسم کے افعال اس کے ماں باپ کرتے ہیں وہ بھی انہیں کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب میاں بیوی ملیں تو دعا مانگ لیں کہ ہم شیطان سے پناہ مانگتے ہیں اور اپنی اولاد کے لئے بھی شیطان سے پناہ چاہتے ہیں(بخاری کتاب النکاح باب مایقول الرجل اذا اتی اھلہ)۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض خرابیاں ورثہ میں پیداہوجاتی ہیں۔اور پھر ظاہری لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ بچے عام طور پر ماں باپ کے قد، علم، حوصلہ اور خیالات کو لیتے ہیں۔چوری کرنے والے یا جھوٹ