تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 400

یہ سورتیں چونکہ ایک طرف قرآن کریم کا خلاصہ ہیں اور دوسری طرف ان میں مضامین کی کثرت ہے اور بعض آئندہ زمانہ کے متعلق پیشگوئیاں بھی ہیں۔اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ یہ سورتیں بے مثل ہیں یہ ان کے فضائل اور کثرت مضامین کی طرف اشارہ ہے۔بخاری، ابو دائود، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت کی ہے۔اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَآ اٰویٰ اِلیٰ فِرَاشِہٖ کُلَّ لَیْلَۃٍ جَمَعَ کَفَّیْہِ ثُمَّ نَفَثَ فِیْـھِمَا فَقَرَأَ فِیْـھِمَا قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ وَقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ یَـمْسَحُ بِـھِمَا مَااسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِہٖ۔یَبْدَأُ بِـھِمَا عَلیٰ رَأْسِہٖ وَوَجْھِہٖ وَمَا اَقْبَلَ مِنْ جَسَدِہٖ۔یَفْعَلُ ذٰلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔وَجَآءَ فِی الْـحَدِیْثِ اَنَّ مَنْ قَرَأَھُمَا مَعَ سُوْرَۃِ الْاِخْلَاصِ ثَلَاثًا حِیْنَ یُـمْسِیْ وَثَلَاثَ حِیْنَ یُصْبِحُ کَفَتْہُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ۔(روح المعانی مقدمۃ سورۃ الفلق) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت اپنے بستر میں آرام فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو جمع کرتے اور سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی تلاوت فرماتے اور ہتھیلیوں میں پھونکتے اور سر سے لے کر پائوں تک سارے جسم پر مَل لیتے اور یہ فعل تین بار کرتے۔نیز حدیث میں یہ بھی آتاہے کہ جو شخص ان دونوں سورتوں کو سورۃ الاخلاص کے ساتھ ملا کر صبح وشام پڑھے گا اس کے لئے یہ کافی ہوجائیں گی اور اس کی ضرورت پوری ہو گی اور دکھ درد سے محفوظ رہے گا۔اس سے مراد یہ ہے کہ قرآنی تعلیم انسان کو دکھوں سے بچاتی ہے کیونکہ جو شخص صبح و شام معوّذتین پڑھے گا لازماً قرآنی تعلیم خلاصتہً صبح وشام اس کے سامنے آتی رہے گی اور جس کے سامنے صبح وشام قرآنی تعلیم آتی رہے گی اسے عمل کا بھی خیال آئے گا۔اور اس طرح وہ دکھوں سے بھی محفوظ رہے گا۔اسی طرح ابن مردویہ نے عقبہ بن عامر سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِقْرَأُوْا بِالْمُعَوِّذَاتِ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلوٰۃٍ۔(درمنثور سورۃ الفلق ) یعنی اے لوگو! ہر نماز کے بعد سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو پڑھا کرو۔اسی طرح سے ابن مردویہ نے حضرت امّ سلمہ ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مِنْ اَحَبِّ السُّوَرِ اِلَی اللّٰہِ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند یہ دو سورتیں ہیں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس۔پھر یہ روایت بھی آتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الاخلاص اور معوذتین کو ملاکر وتر کی آخری رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔(درمنثورسورۃ الفلق)