تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 401

یہ سب روایات ان سورتوں کے فضائل کو ظاہر کرتی ہیں اور ہمیں اس طرف راہنمائی کرتی ہیں کہ ہمیں ہروقت اللہ تعالیٰ پر نگاہ رکھنی چاہیے اور اس کی پناہ میں رہنے کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔وتر کی آخری رکعت چونکہ دن کی نمازوں کے خاتمہ پرہوتی ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں یہ دونوں سورتیں ملا کر پڑھتے تھے۔اورآپؐکا یہ فرمانا کہ جو شخص صبح و شام ان سورتوں کو پڑھے گا وہ آفات سے محفوظ ہو جائے گا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ انسان کو اپنی ابتدا بھی قرآنی تعلیم پر رکھنی چاہیے اور اپنی انتہا بھی قرآنی تعلیم پر رکھنی چاہیے۔بعض لوگوں نے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے متعلق یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ سورتیں دراصل قرآن کریم کا حصہ نہیں۔اگرچہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے ساتھ لکھوایا ہے اور قرآن کریم کے خاتمہ پر انہیں پڑھا کرتے تھے اور پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔مگر باوجود اس کے ان کا خیال ہے یہ سورتیں قرآن کریم کاحصہ نہیں۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرب صحابہ میں سے تھے ان کی یہی رائے ہے۔لیکن اس کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں۔واقعات کے متعلق دلیل صرف وہی شہادت ہوسکتی ہے جو یا تو نظری ہو یا سماعی۔یعنی یاتو اس کی شہادت جس نے خود واقعہ دیکھا ہے یا پھر اگر کسی اور کی طرف اس فیصلہ کو منسوب کرے تو اس کے الفاظ بیان کرے۔لیکن حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ بیان نہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح سنا بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ان دونوں سورتوں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ ان کے ساتھ استعاذہ کیاکریں۔اور چونکہ یہ دونوں سورتیں استعاذہ ہیں۔اس لئے معلوم ہوا کہ قرآن ختم ہو گیا۔ظاہر ہے کہ یہ محض ان کا قیاس ہے اس کے مقابل دوسرے مقتدر صحابہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورتیں انہیں قرآن کے حصہ کے طور پر لکھوائیں۔اس لئے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قیاس درآنحالیکہ وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ قرآن کریم کے ساتھ لکھی اور پڑھی جاتی تھیں کوئی وقعت نہیں رکھتا۔پس یہ سورتیں یقیناً قرآن کریم کا حصہ ہیں اور قرآن کریم کے خاتمہ کے لئے خدا تعالیٰ نے ان کو چنا ہے۔تعلق جیسا کہ قبل ازیں سورۃ الاخلاص کی تفسیر میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ آخری تین سورتیں مجموعی لحاظ سے قرآن مجید کا اسی طرح خلاصہ ہیں جس طرح کہ سورۃ فاتحہ قرآن مجید کا خلاصہ ہے۔چنانچہ سورۃ الاخلاص میں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو سورۃ فاتحہ کی آیات اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ میں بیان ہوا ہے۔سورۃ الاخلاص کے بعد سورۃ الفلق ہے۔اس میں سورۃ فاتحہ کی آیات رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اور