تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 399
آتاہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوفرشتے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائے گئے۔اگر وہ انسان ہوتے تو حضرت عائشہؓ کو بھی نظر آجاتے۔یہ روایت جو حضرت عائشہؓ سے بیان کی گئی ہے اس کا صرف اتنا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرشتوں کے ذریعہ سے خبردی کہ یہودیوں نے آپؐپر جادو کیا ہواہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس طرح جادو کا اثر تسلیم کیا جاتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوبھی گیا تھا۔بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس قسم کا ہو جو دوسرے سے شدید عناد رکھتا ہو تو اس کی توجہ دوسرے شخص پر مرکوز ہوجاتی ہے اور جس طرح مسمریزم کا دوسرے پر اثر پڑتا ہے اسی طرح جادو کا بھی ایک اثر پڑتا ہے۔گویا یہ بھی مسمریزم کی ایک قسم ہوتی ہے جس میں دوسرے پر توجہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسی طرح یہودیوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوشش کی اور بعض دفعہ دشمن جب خاص طور پر کسی امر کے متعلق اجتماع خیال کرتا ہے تو اس کااثر مسمریزم کے طور پر دوسرے پر بھی ہو جاتاہے۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جادو ٹونے کی چیزیں نکال کر زمین میں دفن کردیں تو یہودیوں کو خیال ہو گیا کہ انہوں نے جو جادو کیا تھا وہ باطل ہوگیا ہے۔ادھر اللہ تعالیٰ نے آپؐکو صحت عطا فرما دی۔خلاصہ کلام یہ کہ یہودی یہ یقین رکھتے تھے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا ہے اس وجہ سے طبعی طور پر ان کی توجہ اس طرف مرکوز ہوئی کہ آپ بیمار ہوجائیں چنانچہ اس کا اثر آپ کے جسم پر بھی پڑا۔لیکن جب خدا تعالیٰ نے حقیقت ظاہر کردی اور آپؐنے ان کی چیزیں دفن کرا دیں تو یہودیوں کی وہ توجہ ہٹ گئی اور اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحت عطا فرما دی۔اس روایت سے جہاں یہودیوں کے اس عناد کا پتہ چلتا ہے جو ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا۔وہاں یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول تھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐکو ان تمام باتوں کا علم دے دیا گیا جو یہودی آپؐکے خلاف کررہے تھے۔پس آپؐکو غیب کی باتوں کا معلوم ہوجانا اور یہودیوں کا اپنے مقصد میں ناکام رہنا آپؐکے سچا رسول ہونے کی واضح اوربیّن دلیل ہے۔فضائل مسلم، ترمذی اور نسائی میں روایت آتی ہے قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّیْلَۃَ اٰیَاتٌ لَمْ اَرَ مِثْلَھُنَّ قَطُّ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ (روح المعانی سورۃ الفلق) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب سورۃ الفلق اور سورۃ الناس نازل ہوئیں تو حضورنے فرمایا کہ آج رات مجھ پر ایسی بے مثل آیات اتاری گئی ہیں کہ ان جیسی پہلے نازل نہیں ہوئیں اور پھر اس کے بعد سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھی۔