تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 394
پھر اس آیت میں ایک لطیف پیرایہ میںاس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کی بعض صفات کے مشابہ صفات انسانوں میںبھی پائی جاتی ہیں۔پھر بھی خدا تعالیٰ کا کوئی ہمتا اور ہمسر نہیں۔کیونکہ انسان کے اندر جو صفات پائی جاتی ہیں۔وہ ایسے طور پر نہیں پائی جاتیں کہ وہ خدا تعالیٰ کا کفو ہو سکے مثلاً ظاہر ہے کہ انسان بھی اپنے دائرہ میںبصیر ہے اور انسان بھی اپنے دائرہ میں سمیعـ ہے۔لیکن انسان کی بصارت اور سماعت اتنی ناقص اور محدود ہے کہ اسے خدا تعالیٰ کی بصارت اور سماعت کے مقابلہ میں قطعاً نہیں رکھا جا سکتا جیسے جانور بھی دیکھتا ہے اور انسان بھی دیکھتا ہے اور جانور بھی کھاتا ہے اور انسان بھی کھاتا ہے۔اور جانور بھی چلتا ہے اور انسان بھی چلتاہے۔لیکن پھر بھی جانور اور انسان کو کفو نہیں کہا جاتا۔کیونکہ انسان اپنی آنکھوں سے جو کام لیتا ہے وہ جانور نہیں لیتا۔اور انسان اپنے منہ سے جو کام لیتا ہے وہ جانور نہیں لیتا۔اور انسان اپنے پَیروںسے جو کام لیتا ہے وہ جانور نہیں لے سکتا۔دیکھو انسان اپنی آنکھوں سے کام لے کر آئندہ کے نظریات قائم کرتاہے۔لیکن جانور ایسا نہیں کرتا۔انسان اپنے منہ سے کھاتا ہے لیکن اس بات کاخیال رکھتا ہے کہ میرا منہ کسی ایسی چیز کو نہ کھائے جو میری صحت کے لئے مضر ہو لیکن جانور ایسا نہیں کرتا۔اسی طرح انسان اپنے پیروںسے چلتا ہے اور جانور بھی اپنے پیروں سے چلتا ہے لیکن انسان اسی پیروں کی حرکت کو جس سے وہ چلتاہے پیڈل کے استعمال میں بھی کام لے آتا ہے۔جس کے مطابق اس نے سائیکل ایجاد کیا۔اور بعض قسم کی کشتیاں ایجاد کیں۔لیکن جانور ایسا نہیں کرتا۔اس کے پیروں کی حرکت ایک محدود طور پرچلتی ہے۔اس لئے وہ انسان کا کفو نہیں۔اسی طرح اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی سمع اور بصر پر خدا تعالیٰ کی سمع اور بصر کو قیاس نہیں کرنا چاہیے۔خدا تعالیٰ کا دیکھنا اور طرح کا ہے او رانسان کا دیکھنا اور قسم کاہے۔مثلاً خدا ماوراء الوریٰ دیکھتا ہے انسان نہیں دیکھ سکتا ایک دیوار کے پیچھے جو چیز آتی ہے وہ انسان کی نظر سے اوجھل ہوجاتی ہے لیکن خدا کی نظر سے اوجھل نہیں ہوتی۔اسی طرح انسان بولتا ہے تو لازماً دوسرے آدمی اس کو سن لیتے ہیں۔لیکن خدا اپنے نبیوں سے بولتا ہے اور ان کے پاس بیٹھے ہوئے دوسرے لوگ بھی نہیں سنتے او روہ ہزارپردوں کے پیچھے چھپی ہوئی چیزیں ان کو بتا دیتا ہے۔جس کو بعض دفعہ وہاں بیٹھے ہوئے لوگ بھی نہیں جانتے۔پس انسان باوجود سمیع اور بصیر ہونے کے خدا کا کفو نہیں۔اور اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے او راس شبہ کا ازالہ کردیا گیا ہے۔جیسا کہ اوپر کی سطور میں بتایا جا چکا ہے یہ سورۃ آخری زمانہ میں دہریت اور عیسائیت جیسے خطرناک فتنوں کے مٹانے اور اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی احدیت کو ثابت کرنے کے لئے او رتمام قوموں کو ایک نقطۂ مرکزی پر جمع کرنے کے لئے نازل کی گئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے اللہ تعالیٰ کے مختلف نام دنیا میں