تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 395

بولے جاتے رہے۔کوئی اسے گاڈ GOD کہتا، اور کوئی پرمیشور، کوئی یزدان کہتا اور کوئی الوہیم۔اور لوگ اپنی نادانی سے یہ سمجھتے تھے کہ فلاں ہندوئوں کا خدا ہے اور فلاں زرتشتیوں کا۔فلاں یہودیوں کا خدا ہے اور فلاں عیسائیوں کا۔بلکہ خود ان قوموں کی کتابوں میں بھی لکھا ہوتاتھا کہ تمہارا خدا جو پرمیشور یا الوہیم ہے تمہیں یوں کہتا ہے۔گویا پہلے زمانوں میں اللہ تعالیٰ کا وجود بھی ایک قومی ہو کر رہ گیا تھا۔آخر اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بنی نوع انسان پر اپنا اسم ذات یعنی لفظ اللہ ظاہر کیا۔اور دنیا کو بتایا کہ گاڈ اور یزدان اور الوہیم وغیرہ سب اللہ کے نام کی طرف اشارے ہیں۔ورنہ اصل میںایک ہی خدا ہے جس کانام اللہ ہے۔اسی حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میںبھی اشارہ فرمایا ہے وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ (لقمان:۲۶) یعنی اگر تُو ان سے پوچھے کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ کہیں گے اللہ نے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ اللہ کا نام لیں گے بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ جو بھی نام لیں گے۔ان کا اشارہ اللہ ہی کی طرف ہوگا۔پس اصل چیز ایک ہی ہے یعنی خواہ ہندو او رعیسائی اس کا کوئی نام رکھیں۔مراد درحقیقت یہی ہے کہ اللہ سب چیزوں کا خالق ہے۔پس اللہ قومی نہیں بلکہ رب العالمین ہے اور دنیا کی ساری قومیں کسی نہ کسی نام سے اس کو مانتی اور تسلیم کرتی ہیں۔