تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 393
بات کا ایک ثبوت ہے کہ کبھی بھی دنیا خدا کی مدد سے محروم نہیں رہی۔اور دوسرے یہ ثابت ہے کہ اس کاکوئی لڑکا نہیں۔اس لئے معلوم ہوا کہ وہ ابدی ہے اور جب وہ ابدی ہے تو لازماً ازلی بھی ہے۔کیونکہ آئندہ کی فنا سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جو گذشتہ پیدائش سے بھی محفوظ ہو۔وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌؒ۰۰۵ اور (اس کی صفات میں ) اس کا کوئی بھی شریکِ کار نہیں۔حلّ لُغات۔كُفُوًا۔كُفُوًا :اَلْکُفُؤُ۔اَلْمُمَاثِلُ۔یعنی کفو کے معنے مثیل اور برابر کا درجہ رکھنے والے کے ہوتے ہیں۔چنانچہ اہل عرب جب کہتے ہیں۔ھٰذَا کُفُؤُہٗ۔تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اَیْ مُـمَاثِلُہٗ۔یعنی فلاں فلاں کا مماثل ہے(اقرب)۔مفردات اما م راغب میں ہے کہ کفو اس کو کہتے ہیں جو کسی کا ہم مرتبہ ہو۔تفسیر۔مفسرین کہتے ہیں کہ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کا جملہ پہلی آیت کے مضمون کو دہرانے اور اس کی تاکید کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔لیکن یہ درست نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی ہستی پیدا نہ ہوئی ہو اور آگے بھی اس نے کسی کو پیدا نہ کیا ہو تو یہ شبہ رہتا ہے کہ شاید ایسی ہی کوئی او رہستی بھی موجود ہو۔اس شبہ کا ازالہ اس آیت میں کیا گیا ہے اور بتایاگیا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ خدا کسی کا بیٹا نہیں یا خدا کا آگے کوئی بیٹا نہیں بلکہ اس کا مماثل اور مشابہ بھی کوئی نہیں۔اب رہا یہ سوال کہ اس کی دلیل کیا ہے۔سو اس کی دلیل قرآن شریف میں دوسری جگہ پر دی گئی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا (الانبیآء:۲۳) یعنی اگر دومماثل ہستیاں ہوتیں تو دنیا میں فساد پڑ جاتا کیونکہ دو مماثل ہستیاں ہونے کے یہ معنے ہوتے کہ ان مماثل ہستیوں میں سے ایک بے کارہے۔کیونکہ اگر دونوں ہستیاں ایک ساکام کرسکتی ہیں تو پھر فضول طور پر دوہستیاں کیوں ہیں۔پس لَفَسَدَتَا کے یہی معنے ہیں کہ زمین و آسمان کی پیدائش بےکار ہوجاتی۔دوسرے یہ بتایا ہے کہ اگر مماثل ہستیاں ہوں گی تو وہ متوازی سکیمیں بھی دنیا میں چلائیں گی۔لیکن اگر متوازی سکیمیں اس دنیا میں چلتیں تو دنیا کا ایک حصہ کسی اور طرف جارہا ہوتا اور دوسرا حصہ کسی اور طرف جارہا ہوتا۔مگر ایسا نہیں ہے ساری دنیا میں ہمیں ایک ہی قانون چلتا ہوا نظر آرہا ہے۔حتی کہ جو قانون سورج پر جاری ہے وہی زمین پر بھی جاری ہے اور وہی ماوراء ھما بھی جاری ہے۔یعنی ان دونوں کرّوں سے اوپر بھی جاری ہے۔پس جبکہ ایک ہی قانون دنیا میں جاری ہے۔تو دو مماثل ہستیاں جو ایک سی طاقت رکھتی ہوں ان کا وجود باطل ہو جاتا ہے۔