تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 391

ایک موٹی مثال یہ ہے کہ جو قومیں توحید کی قائل نہیں۔وہ رحمانیت کی بھی قائل نہیں۔ہندو توحید کو نہیں مانتے لہٰذا وہ رحمانیت کے بھی قائل نہیں۔اور ان کا عقیدہ ہے کہ انسان کو اس کے گناہوں کی سزا ضرور ملے گی۔اسی طرح عیسائی توحید کے قائل نہیں اور گناہوں کی معافی کے لئے کفارہ کو ضروری خیال کرتے ہیں۔پس یہ بات بالکل واضح ہے کہ جو قوم توحید کو نہیں مانتی وہ رحمانیت کی بھی قائل نہیں۔پھر جتنی جتنی کوئی قوم رحمانیت کی قائل ہے اتنی ہی وہ توحید کی بھی قائل ہے اور جتنی کوئی قوم توحید سے دور ہے اتنی ہی وہ رحمانیت سے بھی دورہے۔مثلاً اس زمانہ میں یہودی مذہب کسی قدر رحمانیت کا قائل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی قدر توحید کو بھی ماننے والا ہے۔لیکن باقی مذاہب نہ رحمانیت کے قائل ہیں اور نہ توحید کے۔سورۃ اخلاص کے شروع میں فرمایا قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ کہہ دو اللہ تعالیٰ ایک ہے اور پھر اس کے بعد اَللّٰہُ الصَّمَدُ کہہ کر فرمایا کہ اس کا فیض جاری ہے اور ہر چیز اس کی رحمانیت سے فائدہ اٹھا رہی ہے اور اس کی محتاج ہے۔گویا ان دونوں آیات کو یکے بعد دیگرے لانے سے اس طرف اشارہ فرمایا کہ توحید اور رحمانیت لازم وملزوم ہیں۔اور یہ کہ صمدیت کے اندر رحمانیت مضمر ہے۔جو اللہ تعالیٰ کے اَحَدٌ ہونے کی دلیل ہے۔صَمَد کے ایک معنے اَلدَّائِمُ کے بھی ہیں یعنی ابدی۔گویا بتایاگیاہے کہ اللہ ہے اورایک ہے اور یہ کہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا نہ اس سے کوئی پہلے وجود تھا اور نہ بعد میں ہوگا بلکہ وہی ہے جو اوّل بھی ہے اور آخر بھی۔لَمْ يَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ يُوْلَدْۙ۰۰۴ نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے۔تفسیر۔سورۃ الاخلاص کی پہلی آیت قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اللہ ہے مگر ایک ہے اس دعویٰ کے بعد اس کی دلیل اَللّٰہُ الصَّمَدُ کہہ کر دی۔اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کی دلیل یہ ہے کہ دنیا کی کوئی چیز اپنی ذات میں کامل نہیں۔بلکہ وہ دوسری اشیاء کی محتاج ہے کامل ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے جو کسی کا محتاج نہیں۔پس کائناتِ عالم کی یہ احتیاج اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ایک زبردست ثبوت ہے۔اَللّٰہُ الصَّمَدُ کے بعد لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ کہہ کر اللہ تعالیٰ کی صمدیت کی دلیل دی اور بتایا کہ احتیاج دوباتوں کے سبب سے پیدا ہوتی ہے۔اوّل ابتدائی تعلقات کی وجہ سے۔دوم آئندہ کے تعلقات کی وجہ سے۔ابتدائی تعلقات سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کے نیست سے ہست میں آنے اور عالم وجود میں ظاہر کئے جانے کا