تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 390

اگر بلاارادہ ہے تووہ خود دوسری چیزوں سے پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ تمام طاقتیں دوسری چیزوں کی حرکت یا باہمی ترکیب سے پیدا ہوتی ہیں۔اور اگر بالارادہ ہے تو ہمارا دعویٰ ثابت ہے۔ہم بھی تو ایسی ہی طاقت کو منوانا چاہتے ہیں۔غرض کہ اَللّٰہُ الصَّمَدُ میں خدا تعالیٰ کے وجود کی ایک نہایت ہی عجیب دلیل دی گئی ہے۔الصَّمَدُ کے دوسرے معنے اَلرَّفِیْع کے ہیں۔یعنی بلند درجات والا۔ان معنوں کے لحاظ سے اَللّٰہُ الصَّمَدُ کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ ذات جس کے متعلق ہم نے کہا ہے کہ وہ احدیت کی شان رکھتا ہے وہ رفیع الدرجات ہے اور غیر محدود ہے اور قیاسات سے بالا ہے۔گویا ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ جب ہم نے رفیع الدرجات خدا کی طرف پرواز کرنی ہے تو پھر جتنی بھی پرواز کریں کم ہے کیونکہ ہمارا خدا رفیع ہے اور غیر محدود ہے۔اور اس تک ترقی کرنے کے ذریعے کھلے ہیں۔اورخواہ کوئی کتنا ہی ترقی کرے وہ اس کے نیچے ہی رہے گا اور کوئی ایسی انتہا نہیں جہاں پر پہنچ کر ہم کہیں کہ اب سفرختم ہے۔اَلصَّمَدُ کے ایک معنے تفاسیر میں غنی کے بھی کئے گئے ہیں۔لیکن غنی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہ ہو اور یہ ظاہر ہے کہ یہ مفہوم نامکمل ہے۔اس کے مقابل پر صمد دوہرے معنے رکھتا ہے یعنی وہ ہستی جو خود کسی کی محتاج نہ ہو لیکن باقی سب چیزیں اس کی محتاج ہوں۔پس غنی کا لفظ صمد کے پورے مفہوم کو ادا نہیں کرتا۔بلکہ آدھے مفہوم کو ادا کرتا ہے۔اردو میں کوئی مفرد لفظ ایسا نہیں ہے جو صمد کے پورے مفہوم پر حاوی ہو۔اگر صمد کے مفہوم کو سامنے رکھیں تو اس کا ترجمہ دوسرے لفظوں میں رحمان بن جاتا ہے۔کیونکہ رحمان کے معنے یہ ہیں کہ وہ بغیر عمل کے بھی ربوبیت کرتا ہے جب ہم کہیں کہ ہر شے اس کی محتاج ہے تواس کا مطلب یہ ہوگا کہ رحمِ مادر میں بھی بچہ اس کا محتاج ہے کیونکہ وہ وہاں بھی اس کی ربوبیت کرتا ہے۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ ہر چیز اس کی محتاج ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بکری، اونٹ اور گھوڑے بھی اس کے محتاج ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی احتیاج پوری کرتا ہے پھر اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ وہ گناہ گار کا بھی رحمان ہے اور اس سے کفارہ کا ردّ ہوجاتا ہے اسی نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے تناسخ کا مسئلہ قائم ہواہے۔ان آیات میں اس کا بھی ردّ کیا گیا ہے پھرجب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر چیز خدا تعالیٰ کی محتاج ہے تو پھر چاند، سورج اور ستارے اور زمین کے باریک در باریک ذرّات بھی اسی کے محتاج ہیں۔نام نہاد (جس کو منطق میں بسیط کہتے ہیں ) مفر دچیزیں بھی اس کی محتاج ہیں اور مرکب چیزیں بھی۔پھر مادے کا بھی وہ خالق ہے۔انسانوں کا بھی اور روح کا بھی۔پس ثابت ہواکہ صمدیت کے اندر رحمانیت مضمر ہے۔اصل بات یہی ہے کہ توحید رحمانیت کامنبع ہے کیونکہ اگر توحید نہ ہو تو رحمانیت پیدا نہیں ہوسکتی۔چنانچہ اس کی