تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 392

کوئی سبب ہو او رجس کے پیدا ہونے اور نیست سے ہست میں آنے کا کوئی سبب ہوگا لازماً وہ وجود محتاج ہوگا۔کیونکہ اگر وہ سبب نہ ہوتا تو اس کا وجود ظاہر نہ ہوسکتا۔اور آئندہ کے تعلقات سے مراد یہ ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔کیونکہ اولاد کا ہونا نہ صرف عورت کی احتیاج کو ثابت کرتا ہے بلکہ اولاد کا وجود خود اپنے نفس کے فانی ہونے کا بھی ثبوت ہوتاہے۔چنانچہ دنیا میں کوئی ہستی ایسی نہیں جو اپنی پیدائش کی غرض کے پورا ہونے تک زندہ رہنے والی ہو اور پھر بھی اس کے ہاں اولاد ہو مثلاً سورج، چاند، پہاڑ، دریا اور زمین وغیرہ ہیں ان چیزوں کی پیدائش ایسی ہے کہ جب تک ان کی ضرورت ہے یہ قائم رہیں گی ان پر موت نہیں آتی اس لئے ان کی نسل بھی نہیں چلتی لیکن انسان اور حیوانات اور نباتات اپنی ضرورت کے ختم ہونے سے پہلے مرجاتے ہیں اور ان کی نسل چلتی ہے۔پس جس کا کوئی باپ نہ ہو یا بیٹا نہ ہو لازماً اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ غیر فانی ہے اور یہ بھی کہ وہ اپنی ذات میں مکمل ہے اور اَحَدٌ ہے۔غرض لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے تعلقات کی نفی کر دی اور ایک طرف تواس کی صمدیت کا ثبو ت دے دیا اور دوسری طرف اس کی احدیت کا ثبوت دے دیا۔گویا یہ دوآیتیں مل کر پہلی دو آیتوں کا ثبوت ہیں۔پھر لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ کہہ کر قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی صفتِ صمدیت کے متعلق ایک شبہ کا بھی ازالہ کر دیا۔وہ شبہ یہ پیدا ہوتا تھا کہ بے شک مان لیا کہ خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر کوئی کام سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ اس کی طاقت کبھی ختم ہوجائے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بعض لوگ بڑی بڑی طاقتیں رکھتے ہیں مگر ایک زمانہ کے بعد ان کی طاقتیں سلب ہو جاتی ہیں او روہ بالکل مقہور اور ذلیل ہو جاتے ہیں۔پس کیا ایسا کوئی امکان اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق تو نہیں؟ اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے لَمْ یَلِدْ میںدیا اور بتایا کہ اگر آئندہ اس کی طاقتیں ختم ہونے والی ہوتیں تو اس کا قائم مقام کوئی وجود پیدا ہوتا۔مگر اس نے کوئی بیٹا نہیں جنا۔اور بیٹوں سے وہی چیزیں مستغنی ہوتی ہیں جو اپنی ضرورت کے آخر تک قائم رہتی ہیں۔پس لَمْ یَلِدْ نے ثابت کردیا کہ اس کی طاقت کبھی ختم نہیںہوگی اور اس کی صمدیت ہمیشہ قائم رہے گی۔اس آیت میں ایک اور بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس جگہ لَمْ یَلِدْ کے الفاظ پہلے رکھے گئے ہیں۔اور لَمْ یُوْلَدْ کے بعد میں۔حالانکہ لَمْ یَلِدْ ابدیت پر دلالت کرتا ہے اور لَمْ یُوْلَدْ ازلیت پر دلالت کرتاہے اور ازلیت پہلے ہوتی ہے اور ابدیت پیچھے ہوتی ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ازلیت کا علم کسی انسان کو نہیں ہو سکتا۔کیونکہ انسان دورحاضر کی پیدائش ہے۔وہ ازلیت کا علم ابدیت سے ہی حاصل کرسکتا ہے۔چونکہ تما م گذشتہ تاریخ عالم اس