تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 388

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ۰۰۳ اللہ وہ (ہستی) ہے جس کے سب محتاج ہیں(اور وہ کسی کا محتاج نہیں )۔حلّ لُغات۔الصَّمَدُ۔الصَّمَدُ:اَلسَّیِّدُ الَّذِیْ لَا یُقْضٰی دُوْنَہٗ اَمْرٌ۔وہ سردار جس کی مدد کے بغیر کوئی کام نہ کیا جاسکے۔اَلدَّائِمُ۔ہمیشہ رہنے والی ذات۔اَلرَّفِیْعُ۔بہت بلند ہستی۔(اقرب) اَلصَّمَدُ: السَّیِّدُ الَّذِیْ یُصْمَدُ اِلَیْہِ۔وہ سردار جس کی طرف حوائج اور ضروریات کے وقت قصد کیا جاتاہے۔(مفردات) تفسیر۔اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔صمد اس ہستی کو کہتے ہیں کہ جو خود کسی کی محتاج نہ ہو بلکہ باقی سب چیزیں اس کی محتاج ہوں۔قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ میں یہ دعویٰ تھا کہ اللہ ہے اور ایک ہے اب اس دعویٰ کی دلیل اَللّٰہُ الصَّمَدُ میں دی گئی ہے۔مفسرین کہتے ہیں کہ یہ محض قافیہ کی رعایت سے لفظ لایا گیا ہے۔حالانکہ یہ بات درست نہیں بلکہ اس سورۃ کی ہر آیت پہلی آیت کے مضمون کی ایک مضبوط دلیل ہے چنانچہ پہلے فرمایا ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔یعنی حقیقت یہ ہے کہ اللہ منفرد ہے اور پھر فرمایا کہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اَللّٰہُ الصَّمَدُ دنیا کی ہر چیز اس کی محتاج ہے اور جب ساری چیزیں اس کی محتاج ہیں اور وہی ہمارے سب کا م پورے کرتاہے تو پھر کسی اور رب کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔لیکن اگر اس کے باوجود کسی کو رب تسلیم کیاجائے تو ماننا پڑے گا کہ وہ لغو خدا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ خدا جو لغو ہے خدا نہیں ہوسکتا۔جب لغو پانی، لغو ہوا اور لغو کھانا بھی بے کار ہوتا ہے تو لغو خدا کی کیا قیمت ہو سکتی ہے۔پس جب ایک ہی خدا ساری چیزیں پیدا کرتا ہے اور وہی ہر چیز کی احتیاجوں کو پورا کرتا ہے توکسی اور سے ان احتیاجوں کو وابستہ کرنا لغو ہے۔غرض اَللّٰہُ الصَّمَدُ میں توحید کی دلیل دی گئی ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ کہنا کہ اللہ کسی کا محتاج نہیں ایسا دعویٰ ہے جس کی دلیل لوگوں کے سامنے نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے سامنے نہیں۔اس کی ذات ان مادی آنکھوں سے ہم دیکھ نہیں سکتے اور نہ اس کی ذات کا احاطہ کر سکتے ہیں۔پس اس کا جواب ایک ہی ہو سکتا ہے اوروہ یہ کہ ہم یہ ثابت کردیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہر ایک محتاج ہے۔جب یہ ثابت ہوجائے گا کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے تو یہ بات خود بخود ثابت ہوجائے گی کہ وہ کسی کا محتاج نہیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو روزروشن کی طرح واضح ہے کہ دنیا کی کوئی ایسی چیز نہیں جو اپنی ذات میں کامل ہو۔ہر چیز اپنے وجود کے لئے دوسری اشیاء کی محتاج ہے اور بغیر ان کے قائم نہیں رہ سکتی۔ELEMENTSکے باریک سے باریک ذرّات کی طرف چلے جائیں تو معلوم ہو گا کہ ہر ایک ذرّہ کا