تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 387
شرک ہے۔لیکن یہ شرک نہیں۔کیونکہ ہم جو سنتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی صفت کا پرتَو ہے۔پس جب ہم واحد کا لفظ بولتے ہیں تو اقرار کرتے ہیں کہ دوسرے وجود بھی دنیا میں ہیں جو اس سے طاقت حاصل کر کے صفات ظاہر کرتے ہیں۔ایک سے آگے دو، تین، چار، پانچ وغیرہ ہیں۔اور اگر پھر واپس چلیں تو ایک پرہی پہنچ جاتے ہیں۔مگر احد کا لفظ بتاتاہے کہ نہ اس ایک سے آگے دوتین چار کی طرف جاسکتے ہیں اور نہ واپس ایک کی طرف آسکتے ہیں۔اور اصل بنا مخاصمت کی یہی ہے۔بہت سی قومیں ہیں جو ایک سے دوتین کی طرف لے جاتی ہیں اور پھر واپس ایک کی طرف لاتی ہیں۔چنانچہ عیسائیوں میں یہ دونوں باتیں موجود ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ باپ، بیٹا اورروح القدس مل کر ایک ہوا گویا وہ کثرت سے وحدت کی طرف لے جاتے ہیں۔کہ تینوں مل کر ایک ہو گئے۔سورۃ الاخلاص یہ کہتی ہے کہ واحدیت تو اقنوم ثلاثہ سے پیدا ہو سکتی ہے لیکن احدیت نہیں پیدا ہو سکتی۔اور توحید کا مل کا یہی مقام ہے چونکہ یہ غلطی خصوصیت کے ساتھ آخری زمانہ میں پیدا ہونے والی تھی اس لئے قرآن کریم کے اختتام پر فرمایا قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌتو کہہ دے اللہ منفرد ہے وہ نہ تو ایک سے بیٹا اور روح القدس بن سکتا ہے اور نہ یہ تینوں واپس ایک ہوسکتے ہیں۔وہ نہ تو تنوع اختیار کرسکتا ہے اور نہ اس تنوع کو مٹانے سے پھر ایک ہوتاہے۔الغرض سورۃ الاخلاص اس آخری زمانہ میں خدا تعالیٰ کی احدیت کو ثابت کرنے کے لئے اتاری گئی ہے۔اس مختصر سی سورۃ کے ذریعہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی کا ثبوت دیا ہے۔وہاں شرک کا بھی کلیۃً استیصال کر دیاہے۔شرک دو قسم کا ہوتاہے ایک تو یہ کہ کئی وجود خدا کی حیثیت رکھنے والے ہوں۔چاہے اس سے چھوٹے ہوں یابڑے۔دوسر ے یہ کہ خدا کے سوا باقی ہو تو مخلوق ہی، مگر اسے خدائی کا درجہ دیا گیا ہو۔تو ایک شرک فی الذات ہے اور دوسرا شرک فی الصفات۔اللہ تعالیٰ نے قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ کہہ کر تما م ان لوگوں کے عقائد کی تردید کر دی جو تین خدا کہتے ہیں یا دوخدائوں کے قائل ہیں۔یاخدا کا بیٹا یا بیٹیاں تجویز کرتے ہیں یا اور بتوں کو پوجتے ہیں۔چنانچہ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ کے بعد اَللّٰہُ الصَّمَدُ اور پھر لَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہہ کر بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں جو لوگ شرک کرتے ہیں اور دوسروں کو اس کی صفات میں شریک قرار دیتے ہیں یہ ان کی غلطی ہے خواہ کتنا ہی کوئی بڑا انسان ہو۔وہ اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے نہ اس کے رتبہ کو کوئی پہنچ سکتا ہے اور نہ اس کا کوئی شریک فی الفعل ہو سکتا ہے۔