تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 389
دوسرے ذرّ ہ پر اثر پڑ رہا ہے۔کہیں نور کا اثر پڑرہا ہے کہیں ایتھر کا اثر ہورہا ہے۔انسان کامل چیز سمجھی جاتی ہے لیکن یہ پانی، روٹی اور ہوا کا محتاج ہے۔سورج ہے جو گیس کا محتاج ہے اپنے حجم کو قائم رکھنے کے لئے دوسرے سیاروں سے مواد لینے کا محتاج ہے اور بیسیوں اشیاء کا محتاج ہے زمین ہے تو وہ اپنے وجود کے قیام کے لئے کہیں دوسرے ستاروں کی کشش کی، کہیں کرۂ ہوا کی پھر ایتھر کے نئے مادہ کی محتاج ہے۔غرض کسی بڑی سے بڑی چیز کو لے کر باریک درباریک کرتے جائو تو محتاج ہی محتاج ثابت ہوگی۔پس ہر چیز جو ہمیں دنیا میں نظر آتی ہے وہ اپنے وجود کے لئے دوسری اشیاء کی محتاج ہے او ریہ احتیاج بتا رہی ہے کہ دنیا اپنی ذات میں قائم نہیں۔بلکہ اس کا چلانے والا کوئی اور ہے کیونکہ محتاج الی الغیر چیز اپنی خالق آپ نہیں ہوسکتی۔اور نہ ہمیشہ سے ہو سکتی ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ چیزوں کی احتیاج موجودہ تحقیقات کی رُو سے ہے جب تحقیقات مکمل ہو جائے گی تو شاید ثابت ہو جائے کہ بحیثیت مجموعی دنیا کسی کی محتاج نہیں۔اوّل تو اس کا یہ جواب ہے کہ شاید نئی تحقیقات سے دنیا کی احتیاج اور بھی واضح ہوجائے اور اس کے خالق کا وجود اور بھی زیادہ روشن ہوجائے۔پس یہ کوئی اعتراض نہیں۔اس وقت تک تحقیقات کے کئی دَور بدلے ہیں۔مگر یہ مسئلہ زیادہ سے زیادہ قائم ہوا ہے۔کبھی اس کے خلاف کوئی بات ثابت نہیں ہوئی۔پس ہر جدید تحقیق کے بعد اس اصل کا اور بھی پختہ ہو جانا ہی اس امر کا ثبوت ہے کہ آئندہ تحقیق اسے باطل نہیں کرے گی بلکہ ثابت کرے گی۔لیکن اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ کوئی ایسا ذرہ معلوم ہوجائے جو اپنی ذات میں کامل ہو۔توپھر بھی اس کے جوڑنے والے کی ضرورت رہے گی۔لیکن درحقیقت یہ عقلاً محال ہے کہ کوئی ذرہ اپنی ذات میں کامل ہو۔بغیر بالا رادہ ہستی کے اور قادر مطلق وجود کے یہ طاقت کسی میں نہیں پائی جا سکتی۔پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ مادہ جسے اپنی ذات میں مکمل قرار دیا جائے اس کے لئے دوسری شکل اختیار کرنا ناممکن ہے۔کیونکہ تغیّر کسی دوسری شے سے ملنے سے ہوتا ہے اور ملنے کی طاقت اس میں ہوتی ہے جو نامکمل ہو۔کامل شئے چونکہ تغیّر قبول نہیں کرتی وہ کسی اور چیز سے حقیقی طور پر مل بھی نہیں سکتی۔اس کا ملنا ایسا ہی ہو سکتا ہے جس طرح کہ کھانڈ کے ذرّے آپس میں مل کر پھر کھانڈ کی کھانڈ ہی رہتے ہیں۔پس اگر ایسا کوئی ذرّہ فی الواقع ہے تو یہ دنیا اس سے پیدا ہی نہیں ہوسکتی کیونکہ دنیا تو بے تعداد تغیّرات کا مقام ہے۔غرض کائنات عالم پر غور کرنے سے صاف ثابت ہوتاہے کہ یہاں کی ہرچیز تغیّر پذیر ہے اور اپنی ہستی کے قیام کے لئے دوسروں کی محتاج۔اس لئے کسی ایسی ہستی کا ماننا جو ان محتاج ہستیوں کو وجود میں لانے والی ہو اور ایک قانون کے ماتحت چلانے والی ہو ضروری ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک مخفی طاقت سے یہ سب کچھ ہوتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ وہ مخفی طاقت بالارادہ ہے یا بلا ارادہ؟