تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 386
آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے تو آپ نے جواب دیا نُوْرٌ اَنّٰی اَرَاہُ( مـسلم کتاب الایمان باب فی قولہٖ علیہ السلام انی اراہ) کہ وہ ایک نور ہے میں اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں۔پھر جو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی شان میں بھی نظر نہیں آتا۔وہ بھی غلط کہتاہے۔دراصل دونو ں قسم کے لوگ الگ الگ نقطہ نگاہ سے بات کررہے ہوتے ہیں۔الغرض خدا تعالیٰ کی احدیت دورنگ کی ہے ایک وہ جسے ہم سمجھنا چاہیںتو نفی سے ہی سمجھ سکتے ہیں۔اس لئے ہمیں سمجھانے کے لئے فرمایا اَللّٰہُ الصَّمَدُ میں صمد ہوں۔یعنی وہ ہستی جس کی مدد کے بغیر کوئی کام نہ کیا جاسکے۔یہ گویا تنزّل کی احدیت کو بیان کرنا شروع کیا ہے کہ میں وہ خد اہوں جس کی مدد کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتااور جب یہ صورت ہے تو یا درکھو کہ میرے دروازہ سے بھٹکنا فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔کہیںچلے جائو کسی پیر فقیر کو حاجت روابنائو۔وہ سب میرے محتاج ہیں۔پس جسے چشمہ ملے وہ گلاس پر کیوں بیٹھ جائے اور میں ہی وہ چشمہ ہوں جس سے تمام لوگ اپنے اپنے کوزے اور گھڑے بھرتے ہیں۔جب تم مجھ ہی سے حاصل کرتے ہو توتم کیوں مجھ سے تعلق پیدا نہ کرو اور مجھ ہی سے نہ مانگو۔جیسا کہ حل لغات میں بتایا جا چکاہے۔اللہ تعالیٰ کی دوصفات ہیں۔ایک احد ہونا اور دوسری واحد ہونا۔اوراِن دونوں میں فرق ہے جب ہم واحد کا لفظ بولتے ہیں تو اس کے ساتھ دو، تین، چار یا کم وبیش دوسرے افراد کے وجود کا بھی اقرار کرتے ہیں۔انکار نہیں کرتے۔گویا ہم اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ باقی جو چیزیں ہیں اسی سے نکلی ہیں۔جس طرح دوتین چار وغیرہ سب عدد ایک سے ہی نکلے ہیں۔اسی طرح دنیا میں جس قدر بھی اشیاء ہیں وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ سے ہی نکلی ہیں اور ہر چیز اپنے کمال کے لئے اس کے پرتَو کی محتاج ہے۔جس طرح سورج کی روشنی کے بغیر اور کہیں نور نہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر اور کوئی وجود نہیں ہوسکتا۔یہ تومفہوم ہے واحد کا۔اَحَدٌ کالفظ یہ مضمون بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں یکتا ہے۔یہ دو قسم کی نفی کرتا ہے۔پہلی یہ کہ وہ دوسے ایک نہیں ہوا۔اور دوسری یہ کہ وہ ایک سے بھی دو نہیں ہوا۔واحد ایک سے دوبنتا ہے اگر پیچھے کی طرف دوہیں تو دوسے ایک ہوجاتا ہے۔جہاں تک خدا تعالیٰ کی صفات کا تعلق ہے ان کے ساتھ دنیا کا اشتراک پایا جاتاہے۔اس کے پرتَو کے ماتحت دوسری اشیاء میں بھی ایک حد تک وہ صفات مل سکتی ہیں گویا واحد کہنے کے ساتھ ہم اس امر کا اقرار کرتے ہیں کہ دنیا میں دوسرے وجود بھی موجود ہیں۔واحد کے لفظ سے ہم دوسرے کسی وجو د کی طرف جا سکتے ہیں مگر احد کے لفظ سے نہیں۔اسی طرح عربی زبان میں واحد اثنان کہتے ہیں۔یعنی ایک، دو، تین۔احد، اثنان، نہیں کہتے۔تومخلوق کو اللہ تعالیٰ کی صفات میں اشتراک ہے ذات میں نہیں۔اللہ تعالیٰ سنتا ہے اور اس کے پرتَو سے ہمیں بھی سننے کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔کئی نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ کہنا کہ ہم بھی سنتے ہیں اور خدا تعالیٰ بھی سنتا ہے یہ