تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 385

یہ شمال ہے جب تک جنوب نہ ہو۔اسی طرح جوواحد ہے وہ دلالت کرتاہے کہ دوسرے ہوں مگر اَحَدٌ کے معنے ایک ہیں اور ایک دوسرے کی نفی کردیتا ہے۔مگر ایک کے لفظ سے بھی وہ مفہوم ادا نہیں ہوسکتا جو اَحَدٌ میں پایا جاتاہے۔لیکن چونکہ اس کے سوا کوئی اور لفظ اردو میں نہیں پایا جاتا۔اس لئے ہم مجبور ہیں کہ ایک کا لفظ استعمال کریں۔تو اَحَدٌ کے معنے ہیں وہ ذات جو ایسی ایک ذات ہے کہ جس کا تصور کریں تو دوسری کسی ذات کا خیال بھی دل میں نہ آسکے۔پس اَحَدٌ وہ صفت ہے کہ جو سب خُلق سے منزّہ ہو اور درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اصل شان احدیت ہی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ مخلوق سے تعلق کے لئے نیچے اُترتا ہے تو اس کی صفات محدود ہوتی جاتی ہیں جیسے مثلاً سورج ہے اس کی چوڑائی آٹھ لاکھ میل ہے(Encyclopedia Brictanica under word "Sun") لیکن آنکھ کے مقابلہ میں آکر چھوٹا سارہ جاتا ہے۔کیونکہ اگر اس کا عکس پوری جسامت میںہو تو آنکھیں دیکھ نہ سکتیں۔پس جس طرح آنکھوں کے محدود ہونے کی وجہ سے جب تک سورج چھوٹا نہ ہو آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں اسی طرح خدا تعالیٰ جو اَحَدٌ کی شان رکھتا ہے اور اس کی اصل شان یہی ہے جب بندوں پر ظاہر ہوتاہے تو ایسا کہ ہم اسے دیکھ سکیں۔اور خدا تعالیٰ کی وہ جلوہ گری کامل نہیں ہوتی۔پس اللہ تعالیٰ کی اصل شان کو جو احدیت ظاہر کرتی ہے کوئی اور صفت بیان نہیں کرتی۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ دو قسم کا رب ہے۔ایک رب الاحدیت اور ایک رب المخلوق۔شان اوّل کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔مگر دوسری شان محدود ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ رحمان بھی دو قسم کا ہے وہ رحمانیت جو احدیت کے لحاظ سے ہے اور اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔لیکن وہ رحمانیت جو بندوں سے تعلق رکھتی ہے اسے ہر عقل والا دیکھ سکتا ہے۔یہی خدا تعالیٰ کی مالکیت کا حال ہے اور یہی اس کے علم کا۔گویا بندوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی صفات محدودہیں۔لیکن احدیت کی شان کے ساتھ تعلق رکھنے والی صفات محدود نہیں۔انہی دو کیفیتوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں میں خدا تعالیٰ کے متعلق بڑے جھگڑے چلے آئے ہیں۔بعض نے تو کہا ہے خدا نظر نہیں آتا۔بعض نے کہا نظر آتا ہے۔اس پر جھگڑنے لگ گئے۔حالانکہ جنہوں نے کہا نظر نہیں آتا۔انہوں نے بھی ٹھیک کہا۔اور جنہوں نے کہا نظر آتا ہے انہوں نے بھی ٹھیک کہا۔جنہوں نے کہا نظر آتا ہے انہوں نے اس شان کے لحاظ سے کہا جو بندوں سے تعلق رکھتی ہے۔اور جنہوں نے کہا نظر نہیں آتا انہوں نے ان صفات کے لحاظ سے کہا جو احدیت کے گرد چکر لگاتی ہے۔پس خدا تعالیٰ نظر نہیں آتا اور بے شک نظر نہیں آتا۔جب تک ان صفات کو نہ دیکھیں جو بندوں سے تعلق رکھتی ہیں۔اگر کوئی یہ کہتاہے کہ میں نے خدا تعالیٰ کو ان صفات کے ساتھ جو احدیت سے تعلق رکھتی ہیں، دیکھا ہے تو وہ غلط کہتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔کیا