تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 375

آپ کے ارشاد پر عمل کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ اس کی غربت دور ہوگئی بلکہ اس کے پاس روپیہ اور مال کی اتنی کثرت ہوگئی کہ وہ اپنے پڑوسیوں اور ہمسایوں کی بھی مدد کیا کرتا تھا۔حقیقت یہی ہے کہ جب انسان کو علم ہو کہ ایک خداہے جو سب طاقتوں کا مالک ہے وہ میرے کام میں برکت ڈال سکتا ہے تو اس پر توکل کرے گا اور اسی کے حضور جھکے گا۔اور جب محنت اور دعا کسی کے اندر جمع ہوجائیں تو اس کی مشکلات دو رہوجاتی ہیں۔اوراس روایت میں محنت، توکل اور دعا کا سبق سکھایا گیا ہے۔بخاری، ابودائود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ میں حضرت عائشہؓ سے روایت کی گئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو بستر میں لیٹتے تو آپ دونوں ہتھیلیاں جمع کرتے اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھنے کے بعد ہتھیلیوں میں پھونکتے اور پھر سارے بدن پر مَل لیتے اور یہ فعل آپ تین مرتبہ کرتے۔(روح المعانی تفسیر سورۃ الفلق) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں سورتوں کو اکٹھا پڑھنے اوران کے ذریعہ دعا کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ان تینوں سورتوں کا جو قرآن مجید کے آخر میں رکھی گئی ہیں گہرا اشتراک ہے۔سورۃ الاخلاص میں توحید کا مل کا ثبوت ہے اور دوسری دوسورتوں میں دعائوں کا ذکر ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ اگر انسان کو یہ معلوم نہ ہو کہ ایک خدا ہے جو ساری احتیاجوں کو پورا کرتا ہے اور ہر خیر کے دینے اور ہر شر سے حفاظت میں رکھنے پر قادر ہے تو اس کی توجہ کبھی دعا کی طرف مبذول نہیں ہوگی مثلاً اگر ایک کتا ہمیں کاٹنے کے لئے دوڑے تو جب تک ہمیں اس کے مالک کا پتہ نہ ہو ہم کس طرح کتے کو روکنے کے لئے کسی کو بلا سکتے ہیں۔ہاں اگر ہمیں اس کے مالک کا علم ہوجائے تو ہم فوراً اسے آواز دے کر کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو تمہارا کتا ہمیں کاٹتا ہے۔اِسے ہٹائو۔اسی طرح جب ہمیں علم ہوجائے کہ ایک ہستی ایسی ہے جس سے ہماری تمام ضروریات وابستہ ہیں۔اوروہ اتنی طاقتور ہے کہ ہماری تمام ضروریات کو پورا کرسکتی ہے۔تو پھر ہمارا دل دعا کی طرف خودبخود راغب ہو جائے گا۔پس سورۃ الاخلاص اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس میں طبعی ترتیب ہے۔سورۃ الاخلاص میں اللہ تعالیٰ جیسی قادر ہستی کا علم دیا گیا ہے اور اس کے بعد قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں ہمیں بتایاگیا ہے کہ ہمیں یہ دعاکرنی چاہیے کہ اے خدا ہر مخلوق تیرے ہی قبضہ قدرت میں ہے اس لئے تجھی سے ہم پناہ مانگتے ہیں۔انسان ایک چیز کا نام لے کر نہیں کہہ سکتا کہ فلاں فلاں چیز سے مجھے بچائیے مثلاً ہزاروں بیماریاں ہیں۔سردرد ہے۔پھر سردرد کی کئی قسمیں ہیں۔جن کا ڈاکٹروں کو بھی علم نہیں۔کیونکہ اگر سردرد کی ہر قسم کا ڈاکٹروں کوعلم ہو تو پھر درد اچھا کیوں نہ ہو جائے اسی طرح بخاروں کی کئی قسمیں ہیں۔اگر