تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 374

کرسکتی تھیں اور ان فتنوں کا مقابلہ مشکل تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے توحید کی حفاظت کے لئے ستر ہزار فرشتوں کو لگا دیا تاکہ جہاں دجّالی فتنہ اور یاجوج و ماجوج کا فتنہ توحید کے خلاف نبر د آزما ہو اور پورے سازو سامان کے ساتھ اس پر حملہ آور ہو۔وہاں ان کے مٹانے کے لئے فرشتے آسمان سے اتریں اور مخالف حالات میں توحید کو دنیا پر قائم کردیں اور شرک اور دہریت کا قلع قمع ہو جائے اور جس طرح سے خدا تعالیٰ کی بادشاہت آسمان پر ہے زمین پر بھی قائم ہوجائے۔اس سورۃ کے فضائل کے متعلق جو روایات بیان ہوئی ہیں ان میں سے ایک روایت حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری مسجد قبا میں نماز پڑھا یاکرتے تھے۔جب بھی وہ کوئی سورۃ نماز میں پڑھتے تو اس سے پہلے سورۃ الاخلاص پڑھ لیتے اور اس کے پڑھنے کے بعدپھر کوئی اور سورۃ پڑھتے۔مقتدیوں نے کہا کہ جب ایک رکعت میںایک سورۃ پڑھنی کافی ہے تو دوسری سورۃ پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔اس پر انصاری نے کہا کہ میں تو سورۃ الاخلاص کو پڑھنا نہیں چھوڑسکتا خواہ مجھے امامت سے فارغ کردو۔اور چونکہ اس محلہ میں افضل ترین شخص نماز پڑھانے کے لئے وہی تھے اس لئے ان کو امامت سے الگ نہ کیا گیا۔ہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس محلہ میں تشریف لے گئے تو آپ کی خدمت میں معاملہ پیش کردیا گیا۔تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری شخص سے اس سورۃ کو ہر رکعت میں پڑھنے کی وجہ دریافت کی تو اس صحابی نے جواب دیا اِنِّیْ اُحِبُّـھَا یعنی میں اس سورۃ کے مطالب سے محبت رکھتا ہوں۔کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی توحید کو لئے ہوئے ہے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حُبُّکَ اِیَّاھَا اَدْخَلَکَ الْـجَنَّۃَ(فتح البیان سورۃ الاخلاص)۔کہ تمہارے اس سورۃ سے محبت کرنے نے تم کو جنت میں داخل کر دیا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے معلوم ہوتاہے کہ انسان اگر خالص توحید پر قائم ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل توکل رکھے تو وہ جنت میں داخل ہو جاتاہے۔اسی طرح روایات میں آیا ہے۔جَآءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَشَکَا اِلَیْہِ الْفَقْرَ فَقَالَ اِذَا دَخَلْتَ بَیْتَکَ فَسَلِّمْ اِنْ کَانَ فِیْہِ اَحَدٌ وَّ اِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْہِ اَحَدٌ فَسَلِّمْ عَلٰی نَفْسِکَ وَاقْرَءْ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ مَرَّۃً وَّاحِدَۃً۔(روح البیان سورۃ الاخلاص) یعنی ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی محتاجی کی شکایت کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا کہ جب تم گھر میں داخل ہو اور گھر میںکوئی موجود ہو تو اس کو السلام علیکم کہا کرو۔اور اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہو تو اپنے نفس پر سلام بھیجو اور اس کے بعد قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ایک دفعہ پڑھو۔روایات میں آتا ہے کہ اس شخص نے