تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 376

سارے بخاروں کا ڈاکٹروں کو علم ہو توپھر بخار کے سارے مریض کیوں اچھے نہیں ہوجاتے۔ڈاکٹر کہہ دیتے ہیں کہ یہ ملیریا ہے لیکن اب طبّی ترقی کے نتیجے میں معلوم ہوا ہے کہ ملیریا کی بھی کئی قسمیں ہیں۔اور جن مچھروں سے ملیریا پیدا ہوتا ہے وہ بھی کئی قسم کے ہیں (The Encyclopedia Britanica, under word "Malaria")۔پس جب سارے بخار ڈاکٹروں سے اچھے نہیں ہوتے تو ظاہر ہے کہ ملیریا کی بھی کئی قسمیںہیں جن کا ابھی تک پتہ نہیں لگا۔ہومیو پیتھک والے تو کہتے ہیں کہ ہر انسان کے بخار کی قسم الگ ہوتی ہے۔یعنی زید کا بخار الگ قسم کا ہوتاہے بکر کا الگ قسم کا۔پھر زید کا ملیریا ایک وقت میں ایک قسم کا ہوتا ہے اور دوسرے وقت میں دوسری قسم کا۔مثلاً جب وہ ساگ کھاتا ہے تو ملیریا الگ قسم کا ہوتا ہے اور جب کباب کھاتا ہے تو اور قسم کا۔غرض حقیقت یہ ہے کہ نہ بیماریوں کا احاطہ کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی اور شے کا۔اس لئے فرمایا دعا کرو کہ خدایا ہمیں تو ہر چیز کا علم نہیں اس لئے تو ہی ہربرائی سے ہمیں بچا۔پھر سورۃ الفلق کے بعد سورۃ الناس رکھ دی۔اور اس میں یہ نہیں بتایاکہ مجھے زید کے شر سے پناہ دے یا بکر کے شر سے محفوظ رکھ۔بلکہ فرمایا کہ ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھ۔خواہ وہ کسی زبردست کی طرف سے، ملک کی طر ف سے یا کسی افسر کی طرف سے ہو۔او ریہ دعا اس وقت تک دل سے نہیں نکل سکتی جب تک کوئی شخص اَللّٰہُ اَحَدٌ کا قائل نہ ہو۔قرآن کریم کی آخری تین سورتوں کا گہرا اشتراک پس ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی آخری تین سورتوں کا باہم جوڑ اور اشتراک ہے اور ان میں یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے توحید کو سمجھنا چاہیے اس کے بعد دعائے کامل پیداہوگی اور جب دعائے کامل پیداہوگی توپھر شرکا خاتمہ ہو گا۔قرآن کریم کی آخری تین سورتوں میں سورۃ فاتحہ کا مضمون دہرایاگیا ہے یہ امر بھی یادرکھنا چاہیے کہ یہ تینوں سورتیں (یعنی سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) سورۃ فاتحہ کے مضمون پر مشتمل ہیں۔پس جس طرح سورۃ فاتحہ سے قرآن کریم شروع کیا گیا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے ختم بھی سورۃ فاتحہ پرہی کیا ہے۔گویا وہ سارا مضمون جو سورۃ فاتحہ میں بیان کیا گیا تھا آخر میں آکر اسے دہرا دیا گیا ہے جس طرح استاد آخر میں سبق کو دہرادیتا ہے۔سبق شروع کرنے سے پہلے وہ بیان کردیتا ہے کہ آج یہ مضمون شروع ہوگا۔پھر آخر میں اس کاخلاصہ بیان کرکے بتاتا ہے کہ یہ مضمون ہم نے آج ختم کیا ہے۔گویا سورۃ فاتحہ میں جن مضامین کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔قرآن کریم میں ان کا حل کرنے کے بعد آخر میں ان کا خلاصہ کر کے بتایا ہے کہ ہم نے یہ بیان کیا ہے اسے یاد رکھنا۔