تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 367

محاورے میں جنگ کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور سَيَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ کے معنے یہ ہوں گے کہ ابو لہبی تحریکیں ایک سخت جنگ میں ڈالی جائیں گی اور وہ ایسی جنگ ہو گی جو شعلوں والی ہو گی اور ایسی ہو گی جس کی مثال پہلے نہ ملتی ہوگی۔کیونکہ نار نکرہ ہے اور نکرہ عظمت شان پر دلالت کرتا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کا نتیجہ سوائے آگ کے شعلوں اور شدید گرمی کے کیا ہو سکتا ہے۔کیونکہ ان کے استعمال سے بیک وقت شہروں کے شہر آگ کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔سَيَصْلٰى نَارًا میں جنگ کی پیشگوئی پس یہ آیت بتاتی ہے کہ ان اقوام کو ایک ہولناک جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔اور یہ آپس میں لڑ کر تباہ ہو جائیں گی۔عربی زبان میں س اور سَوْفَ جب فعل پر داخل ہوتے ہیں تو زمانہ کی مقدار بتاتے ہیں کہ یہ فعل کب واقع ہو گا۔س زمانہ قریب کے لئے آتا ہے اور سَوْفَ زمانہ بعید کے لئے۔اس آیت میں سَيَصْلٰى فعل پر س داخل ہوا ہے جو زمانہ قریب پر دلالت کرتا ہے گویا اس میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ قومیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آگ بھڑکائیں گی اور آپ کے مذہب کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گی جس وقت ان کی کوششیں انتہا کو پہنچ جائیں گی تو اس کے بعد جلد ہی وہ لڑائی کی آگ میں جھونکی جائیں گی۔چنانچہ دیکھ لو کہ مغربی تحریکیں اسلا م کے خلاف۱۹۱۴ء میں کمال کو پہنچیں اور اس کے معاً بعد ان کی آپس میں جنگ ہوگئی جو ۱۹۱۸ء میں ختم ہوئی اور پھر دوبارہ ۱۹۳۸ء میں اس کے نتیجہ میں پھر ایک جنگ ہوئی جو ۱۹۴۵ء تک چلی گئی اور ۱۹۴۵ء کے بعد ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کی ایجاد ہوئی جس سے دنیا ایک اور تباہی کے کنارہ پر کھڑی ہے اور یہ زمانہ اس زمانہ کے بالکل قریب ہے جس میں ان مغربی اقوام کی کوششیں اسلام کے خلاف انتہا کو پہنچ گئی تھیں۔وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ۰۰۵ اور اس کی بیوی بھی۔جو ایندھن اٹھا اٹھا کر لاتی ہے (آگ میں پڑے گی)۔حلّ لُغات۔حَطَب۔اَلْـحَطَبُ۔مَا اُعِدَّ مِنَ الشَّجَرِ شَبُوْبًا لِلنَّارِ۔درخت کی لکڑیاں جو جلانے کے لئے تیار کی جاتی ہیں اور خشک کی جاتی ہیں ان کو حَطَب کہتے ہیں۔یعنی ایندھن نیز اَلْـحَطَبُ کے معنے ہیں اَلنَّمِیْمَۃُ چغل خوری(اقرب)۔پس حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ کے معنے ہوں گے ایندھن اٹھانے والی (۲) چغلخوری کرنے والی۔تفسیر۔اِمْرَاَۃٌ کے معنے عورت کے ہیں۔لیکن یہ لفظ ایسے لوگوں کے لئے بھی استعمال ہوجاتا ہے جو کسی