تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 349
سے کہا تَبًّا لَکَ یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم ہلاکت کامنہ دیکھو۔کیا تم نے اسی غرض کے لئے ہمیں جمع کیا تھا؟ ابو لہب کے اس قول کے مطابق یہ سورۃ نازل ہوئی۔اور یہ بتایا گیا کہ تباہی ابو لہب کے لئے ہوگی نہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے۔دوسری روایت سبب نزول کے متعلق یہ بیان ہوئی ہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَت وَاَنْذِرْ عَشِیْـرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ صَعِدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الصَّفَا فَـجَعَلَ یُنَادِیْ یَا بَنِیْ فِھْرٍ یَا بَنِیْ عَدِیٍّ لِبُطُوْنِ قُرَیْشٍ حَتّٰی اِجْتَمَعُوْا فَـجَعَلَ الرَّجُلُ اِذَا لَمْ یَسْتَطِعْ اَنْ یَّـخْرُجَ اَرْسَلَ رَسُوْلًا لِیَنْظُرَ مَاھُوَ فَـجَآءَ اَبُوْ لَھَبٍ وَقُرَیْشٌ فَقَالَ اَرَاَیْتَکُمْ لَوْ اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلًا بِالْوَادِیْ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ اَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ قَالُوْا نَعَمْ مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ اِلَّا صِدْقاًقَالَ فَاِنِّی نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ۔فَقَالَ اَبُوْلَھَبٍ تَبًّا لَکَ سَائِرَا لْاَیَّامِ اَلِھٰذَا جَـمَعْتَنَا فَنَزَلَتْ وَیُرْوٰی اَنَّہٗ مَعَ ذٰلِکَ الْقَوْلِ اَخَذَ بِیَدَیْہِ حَـجَرًا لِیَـرْمِیَ بِـھَا رَسُوْ لَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔( روح المعانی سورۃ اللھب) یعنی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ کی آیت نازل ہوئی۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر چڑھے اور عرب کے مختلف قبائل کو پکارنے لگے۔یہاں تک کہ لوگ کوہ صفا پر پہنچ گئے اور جو خود نہ آسکا اس نے اپنا ایلچی بھیج دیا تاکہ معلوم کر کے اطلاع دے کہ کس غرض کے لئے بلایا گیا ہے۔چنانچہ اس موقعہ پر قبیلہ قریش اور ابو لہب بھی پہنچ گیا۔تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو! اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پَرے وادی میں ایک لشکر چھپا ہوا ہے جو تم پر شب خون مارنا چاہتا ہے۔تو کیا تم میری بات مان لو گے؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں۔ہمارا یہ تجربہ ہے کہ آپ ہمیشہ سچ بولاکرتے ہیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لو سنو ! میں تمہیں ایک اہم خبر سناتاہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میں تم کو آنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں۔اس پر ابو لہب بھڑک اٹھا اور اس نے کہا تَبّاً لَکَ۔اے محمد (نعوذباللہ) تم پر ہلاکت ہو۔کیا تم نے اس معمولی سی بات کے لئے ہم کو جمع کیا تھا؟ چنانچہ اس کے جواب میں یہ سورۃ نازل ہوئی۔بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ ابو لہب نے ایک پتھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پھینکنا چاہا۔اس لئے یہ آیت نازل ہوئی کہ تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ کہ ابو لہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہو گئے۔غرض یہ دو روایات سورۃ لہب کے سبب نزول کے متعلق بیان کی جاتی ہیں۔لیکن اس بارہ میںیہ بات یاد رکھنی چاہیے